کولکاتا، 13 دسمبر (یو این آئی)
الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں ووٹر تصدیق اور سماعت کے عمل کے تحت یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر اسمبلی حلقے سے روزانہ کم از کم 100 ووٹروں کو سماعت کے لیے بلایا جائے گا۔
یہ سماعتیں کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز (اے ای آر او) کریں گے ، جو حتمی ووٹر فہرست جاری ہونے سے قبل ووٹر ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن نے پہلے ہی ہر اسمبلی حلقے میں 10 اے ای آر او تعینات کر دیے ہیں۔ مغربی بنگال میں 294 اسمبلی نشستیں ہیں، اس طرح پوری ریاست میں اس وقت 2,940 اے ای آر او کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کمیشن 1,000 سے 1,500 مزید اے ای آر او کی تقرری کے عمل میں بھی ہے ۔
ان اضافی افسران کو بھی معاملات کی تعداد اور تصدیق کی رفتار کے مطابق سماعت کے کام میں لگایا جا سکتا ہے ۔ کمیشن نے ابتدا میں ہر اسمبلی حلقے میں روزانہ کم از کم 50 ووٹروں کی سماعت کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم جمعہ کو ریاستی چیف الیکشن آفیسر (سی ای او) کے دفتر میں منعقدہ ایک جائزہ میٹنگ کے بعد اس ہدف میں اضافہ کر دیا گیا۔
یہ طے کیا گیا کہ مقررہ وقت کے اندر اس عمل کو مکمل کرنے کے لیے ہر حلقے میں روزانہ کم از کم 100 ووٹروں کی سماعت ضروری ہوگی۔ یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ابتدائی جانچ کے دوران بڑی تعداد میں ایسے فارم سامنے آئے ہیں جن پر سوالات کئے جارہے ہیں۔
دیکھنے میں آیا ہے کہ تقریباً 30 لاکھ ووٹروں نے ایسے فارم جمع کرائے ہیں جبکہ ان کا 2002 کی ووٹر لسٹ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے جو آخری مرتبہ تھا جب ریاست میں خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کا عمل انجام دیا گیا تھا۔ کمیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ اس زمرے میں آنے والے تمام ووٹروں کو لازمی طور پر سماعت کے لیے بلایا جائے گا۔
اس کے علاوہ کمیشن نے ایک کروڑ 67 لاکھ 45 ہزار 911 ووٹروں کے ریکارڈ کو مشتبہ قرار دیا ہے ۔ ان تفصیلات کی تصدیق کے لیے بوتھ لیول آفیسرز (بی ایل او) گھر گھر جا کر جانچ کریں گے ۔ اس عمل کے دوران جن ووٹروں کی تفصیلات سے بی ایل او مطمئن نہیں ہوں گے ، انہیں دوبارہ کمیشن کے پاس بھیجا جائے گا اور ایسے افراد کو بھی اے ای آر او کے سامنے سماعت کے لیے بلایا جائے گا۔
الیکشن کمیشن 16 دسمبر کو مغربی بنگال کی مسودہ ووٹر فہرست جاری کرے گا۔ مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد ووٹروں کو اعتراضات درج کرانے یا غلطیوں کی نشاندہی کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔










