نئی دہلی، 13 دسمبر (یو این آئی) کانگریس نے مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گارنٹی اسکیم (منریگا) کا نام تبدیل کیے جانے پر حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے ہفتہ کے روز کہا کہ پورا ملک جانتا ہے کہ نام بدلنے میں مودی حکومت کا کوئی ثانی نہیں، لیکن اب یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ حکومت کو نہ صرف پنڈت جواہر لال نہرو سے بلکہ مہاتما گاندھی کے نام سے بھی نفرت ہے ۔
کانگریس نے کہا کہ منریگا اسکیم مہاتما گاندھی کے نام پر چل رہی تھی اور طویل عرصے سے اس اسکیم کے تحت دیہی علاقوں میں لوگوں کو روزگار مل رہا تھا، لیکن اب حکومت نے ‘گاندھی’ لفظ ہٹا کر اس اسکیم کا نام ‘باپو’ رکھ دیا ہے ، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو گاندھی کے نام سے بھی مسئلہ ہے ۔
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں پارٹی کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے منریگا کا نام تبدیل کرنے کے فیصلے پر کہا ”اسکیموں کے نام اور قوانین کے نام بدلنے میں مودی حکومت ماہر ہے ، اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ نرمل بھارت ابھیان کو سوچھ بھارت ابھیان بنایا، دیہی ایل پی جی تقسیم پروگرام کو اجولا نام دیا۔ پیکیجنگ، برانڈنگ اور نام رکھنے میں یہ حکومت مہارت رکھتی ہے ۔”
انہوں نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو سے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو پہلے ہی نفرت ہے ، لیکن اب یہ بات بھی سامنے آ گئی ہے کہ انہیں بابائے قوم مہاتما گاندھی سے بھی نفرت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ”حیرت کی بات یہ ہے کہ پنڈت نہرو سے نفرت تو سمجھ میں آتی ہے ، لیکن مہاتما گاندھی سے اتنی نفرت؟ مہاتما گاندھی نیشنل ایمپلائمنٹ گارنٹی یوجنا 2005 سے نافذ ہے ۔ اب آپ اس کا نام ‘پوجیہ باپو روزگار گارنٹی یوجنا’ رکھ رہے ہیں، آخر مہاتما گاندھی کے نام سے کیا مسئلہ ہے ؟”










