نئی دہلی، 8 دسمبر (یو این آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے لیڈر اکھلیش یادو نے پیر کو کہا کہ جس نظریہ کے حامل لوگوں نے تحریک آزادی میں کبھی حصہ نہیں لیا، اسی نظریہ کے لوگ آج ‘وندے ماترم’ اور تحریک آزادی کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کررہے ہیں۔
وندے ماترم کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر لوک سبھا میں بحث میں حصہ لیتے ہوئے مسٹر یادو نے کہا کہ حکمراں فریق کے لوگ آج ہر اس اچھی چیز کو اپنا لینا چاہتے ہیں، جس میں ان کی دور دور تک شرکت بھی نہیں رہی ہے ۔ انہوں کہ کہ جن لوگوں نے ملک توڑنے کا کام کیا، ویسے ہی نظریہ کے لوگ آج پھر معاشرے میں دراڑ پیداکررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خود کو پرجوش ‘راشٹر وادی’ کہتے ہیں دراصل وہ لوگ راشٹر وِوادی’ ہیں۔ ایسے لوگ آئے روز مختلف تنازعات کو جنم دیتے رہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وندے ماترم ایک ایسا گیت ہے جس نے لاکھوں لوگوں کو جگایا ہے ، انہیں نئی توانائی اور طاقت دی ہے ۔ ان کے جوش وخروش سے انگریز گھبرانے لگے اور یہاں تک کہ وندے ماترم گانے والے طلبہ کو بھی غدار قرار دے کر قید کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم صرف گانے کے لیے نہیں ہے اس کی روح کو اپنانا بھی چاہیے ۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ آج وندے ماترم کے بارے میں بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں انہیں یہ بتانا چاہئے کہ آزادی سے قبل ان کے نظریہ سے وابستہ لوگوں نے کب وندے ماترم گایا تھا۔ انہیں یہ بتانا چاہئے کہ انہوں نے اپنے پروگراموں یا انتخابی جلسوں میں بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی تصویر کب سے لگانا شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ایس پی اور بی ایس پی نے مل کر اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دی، تب سے بی جے پی نے آئین ساز کی تصویر کو لگانا شروع کیا۔
مسٹر یادو نے کہا کہ اگر ہم آج کی بات کریں تو حکمراں پارٹی کو بتانا چاہئے کہ انڈیگو کی پروازیں کب باقاعدہ ہوں گی۔ اترپردیش میں 26000 اسکول بند کردیے گئے ، اس کا جواب کون دے گا؟ انہوں نے کہا کہ وندے ماترم کے بنیادی جذبے یعنی حب الوطنی اور بھائی چارے کو اپنا کر ہی ملک کی بہتر خدمت کی جا سکتی ہے ۔










