سرینگر/۶ دسمبر
جموں کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ حزبِ اختلاف کا انڈیا بلاک اس وقت’لائف سپورٹ‘ پر ہے اور اندرونی لڑائی اور بی جے پی کی چوبیس گھنٹے فعال انتخابی مشین کا مقابلہ نہ کر پانے کی وجہ سے ’آئی سی یو‘ میں لے جائے جانے کا خطرہ ہے۔
دہلی میں ہندوستان ٹائمز( ایچ ٹی) لیڈرشپ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے حزبِ اختلاف کے اس اتحاد کی ’تنظیمی اور حکمتِ عملی کی ناکامیوں‘ کی تفصیل بیان کی اور اس کے برعکس بی جے پی کی ’بے مثال‘ محنت کو اجاگر کیا۔
انڈیا بلاک کی موجودہ حالت کے بارے میں، خاص طور پر حالیہ بہار انتخابات کے بعد، بات کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا’’ہم کسی حد تک لائف سپورٹ پر ہیں، لیکن کبھی کبھار کوئی آتا ہے اور اپنے پیڈلز نکال کر ہمیں ایک جھٹکا دیتا ہے اور ہم پھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے، بہار جیسے نتائج آتے ہیں، ہم پھر گر جاتے ہیں، اور پھر کسی کو ہمیں آئی سی یو میں لے جانا پڑتا ہے‘‘۔
جموںکشمیر کے وزیر اعلیٰ نے انڈیا بلاک کو نتیش کمار کے دوبارہ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے میں شامل ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا’’میرا یقین ہے کہ ہم نے نتیش کمار کو دوبارہ این ڈی اے کی آغوش میں دھکیل دیا‘‘۔
این سی کے نائب صدر نے اتحاد کی جانب سے ایک متحدہ مؤقف اختیار کرنے میں ناکامی کی طرف بھی اشارہ کیا، مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بہار میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کو نشستوں کی تقسیم کے فارمولے سے جان بوجھ کر الگ رکھا گیا، حالانکہ پارٹی کی وہاں موجودگی ہے۔
عمرعبداللہ نے انڈیا بلاک کی انتخابی مہم کا بی جے پی سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ حزبِ اختلاف کا اتحاد حکومتی پارٹی کی منظم اور تربیت یافتہ انتخابی مہم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا’’ان کے پاس ایک بے مثال انتخابی مشین ہے‘‘ اور نوٹ کیا کہ یہ طاقت صرف تنظیم یا فنڈنگ تک محدود نہیں۔
جموںکشمیر کے وزیر اعلیٰ نے کہا’’ان کے پاس انتخابات کو سنبھالنے کا حیرت انگیز ورک ایتھک ہے… وہ ہر انتخاب ایسے لڑتے ہیں جیسے ان کی زندگی اس پر منحصر ہو۔ ہم کبھی کبھار ایسے لڑتے ہیں جیسے ہمیں پروا ہی نہیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی ٹیم کی۷x۲۴ سیاسی حکمتِ عملی پر زور دیا اور کہا’’جیسے ہی ایک انتخاب ختم ہوتا ہے، وہ فوراً اگلے خطے میں قدم رکھ دیتے ہیں… ہم ان ریاستوں میں انتخابات سے دو مہینے پہلے جاتے ہیں۔ اگر ہم نامزدگیوں کی آخری تاریخ سے پہلے اپنے انتخابی اتحاد کو حتمی شکل دے دیں تو یہ ہماری خوش نصیبی ہوگی‘‘۔
آگے کی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے عمرعبداللہ نے کہا کہ حزبِ اختلاف کے پاس بی جے پی کو چیلنج کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے بڑے جزو ‘ کانگریس ‘ کے گرد متحد ہو، جو ملک بھر میں موجودگی رکھنے والی واحد جماعت ہے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ علاقائی جماعتیں جغرافیائی طور پر محدود ہونے کی وجہ سے بڑے کردار ادا نہیں کر سکتیں۔’’بہت سا بوجھ کانگریس کو ہی اٹھانا ہوگا‘‘۔
مسلم ووٹروں کے حوالے سے این سی نائب صدر نے کہا کہ جو پارٹیاں روایتی طور پر مسلم ووٹ پاتی رہی ہیں، انہوں نے ’غلطی‘ کی ہے کہ اس برادری کو یقینی ووٹر سمجھ لیا اور صرف انتخابات سے قبل ان سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں اے آئی ایم آئی ایم جیسی جماعتوں کو فائدہ ہو رہا ہے جو ’’پانچ سال تک ہمارے مسائل اٹھانے کو تیار رہتی ہیں‘‘۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ۲۰۲۴ کے عام انتخابات کا نتیجہ ایک اتفاق تھا، تو عمرعبداللہ نے کہا’’نہیں، میرا خیال ہے کہ ملک نے ۲۰۲۴ میں مرکزی حکومت کو، وزیر اعظم مودی اور دوسروں کو یہ پیغام دیا کہ حالات اتنے خوشگوار نہیں جتنے آپ نے بیان کیے، اور یہ کہ ہم کچھ فیصلوں سے خوش نہیں‘‘۔
جموںکشمیر کے وزیرا علیٰ نے یہ بھی کہا کہ۲۰۲۴ کے انتخابات کے بعد مرکز نے اپنا انداز بدلا اور دکھایا کہ وہ مخلوط حکومت کے طور پر بھی کام کر سکتا ہے۔ان کاکہنا تھا’’آج ہم میں سے شاید ہی کوئی یاد رکھتا ہے کہ یہ ایک اتحاد کی حکومت ہے۔ ہمیں لگتا تھا کہ اس حکومت کا اندازِ کار یو پی اے یا این ڈی اے طرز کے اتحاد سے مطابقت نہیں رکھتا۔ میں تو اکثر بھول جاتا ہوں کہ یہ وزیر اعظم اپنے دو اتحادیوں پر منحصر ہیں‘‘۔
عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ مرکز نے اپنے طور طریقے بدلے، لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کا عمل اپنایا۔’’یعنی، خود کو بی جے پی حکومت کہنے کے بجائے، انہوں نے خود کو این ڈی اے حکومت کہا۔ یہ چھوٹی تبدیلیاں ہیں، لیکن اہم ہیں‘‘۔
ای وی ایم پر،عمر عبداللہ جو ہمیشہ سے ان الزامات سے فاصلہ رکھتے آئے ہیں کہ مشینیں چھیڑی ہوئی ہیں، بولے’’میں کبھی ان لوگوں میں شامل نہیں رہا جو کہتے ہیں کہ مشینیں چھیڑی جاتی ہیں‘‘۔تاہم انہوں نے ’چھیڑ چھاڑ‘ اور’انتخابی ہیرا پھیری‘ میں فرق کیا اور کہا کہ انتخابی ہیرا پھیری ایک جائز تشویش ہے۔ان کاکہنا تھا’’انتخابات میں ہیرا پھیری ہو سکتی ہے۔ اور سب سے آسان طریقہ ووٹر لسٹ یا حلقوں کی تشکیل میں رد و بدل ہے‘‘۔
این سی کے نائب صدر نے جموں و کشمیر میں حالیہ حد بندی کی مثال دیتے ہوئے اسے ’بنیادی طور پر ہیرا پھیری‘ قرار دیا، اور کہا کہ اس عمل نے نئی نشستیں اس طریقے سے بنائیں کہ ’ایک پارٹی اور اس کی ایک اتحادی‘ کو فائدہ پہنچے، اور ووٹر لسٹ میں رد و بدل اور مخصوص طبقات کو شامل یا خارج کرنا انتخابی ہیرا پھیری کے مترادف ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں تبدیلی سے متعلق کوئی بھی عمل، جیسے اسپیشل انٹینسو ریویڑن (ایس آئی آر)،’شفاف‘ اور’منصفانہ‘ ہونا چاہیے تاکہ جانبداری پر سوال نہ اٹھیں۔
آخر میں، ہلکے پھلکے انداز میں عمرعبداللہ نے کہا کہ ای وی ایم کے بارے میں ان کا ذاتی مؤقف ان کے والد فاروق عبداللہ سے مختلف ہے، انہوں نے کہا ’’میرے والد وہ سب کچھ مان لیتے ہیں جو انہیں واٹس ایپ پر ملتا ہے۔‘‘ (ایجنسیاں)
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










