وزیر اعلیٰ کا چیئر مین پی ایس سی کو امتحان ملتوی کرنے کیلئے خط/اگر منتخب حکومت نے منظوری دی تھی تو پھر سوالات کیوں:صادق
ندائے مشرق خبر
سرینگر/۶دسمبر
چیئر مین جموں کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی سی ایس ) نے ہفتے کو کہا ہے کہ جے کے اے ایس (پریلیمز) امتحان شیڈول کے مطابق منعقد ہو گا۔
یہ بیان اْن چند گھنٹوں بعد سامنے آیا جب جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے چیئرمین جے کے پی ایس سی کو ایک خط لکھ کر آنے والے جے کے اے ایس امتحان کو’ طلبا کے مفاد میںمعقول مدت‘ کیلئے ملتوی کرنے کی استدعا کی تھی۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے چیئرمین جے کے پی ایس سی ارون کمار چودھری نے کہا کہ وہ امتحان کے سلسلے میں آگے بڑھیں گے۔انہوں نے کہا’’ہم امتحانات شیڈول کے مطابق ہی لیں گے‘‘۔
اس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جاری ایئر لائن مسائل کے باعث سفری بدنظمی پر تشویش ظاہر کی تھی، جو ’’عمر میں رعایت کی منظوری میں لوک بھون کی تاخیر سے جنم لینے والی غیر یقینی صورتحال‘‘ سے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے…ایک ایسی سہولت جو ماضی میں کئی مرتبہ فراہم کی جا چکی ہے‘‘۔
سماجی رابطہ پلیٹ فارم ایکس پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے دفتر نے کہا کہ عمر عبداللہ نے جے کے پی ایس سی پر زور دیا کہ وہ امیدواروں پر پڑنے والے بے مثال دباؤ کا نوٹس لے اور منصفانہ اور مساوی موقع کے لیے امتحان کو ملتوی کرنے پر غور کرے۔
تاہم لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتے کے روز کہا کہ فائل ۲ دسمبر کو موصول ہونے کے اسی دن ایک سوال کے ساتھ واپس بھیج دی گئی تھی، لیکن حکومت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
سنہا نے کہا کہ یہ سوال جے کے پی ایس سی کی طرف اس لیے بھیجا گیا تھا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اہلیت کے معیار میں اتنے تاخیر سے ترمیم شامل کرنے کے بعد ۷ دسمبر کو مقررہ سی سی ای امتحان لینا لوجسٹک طور پر ممکن ہے یا نہیں۔
ایل جی آفس کے ایکس پر دیے گئے بیان میں کہا گیا’’جے کے پی ایس سی امتحان سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس گمراہ کن ہیں۔ لوک بھون کو یہ فائل ۲ دسمبر کو موصول ہوئی تھی، جو واضح طور پر صرف عمر میں رعایت سے متعلق تھی۔ فائل اسی دن،۲ دسمبر کو، ایک سوال کے ساتھ واپس بھیج دی گئی کہ کیا ۷ دسمبر کو امتحان لینا لوجسٹک طور پر ممکن ہے، جبکہ اہلیت کے معیار میں اتنے تاخیر سے ترمیم شامل کی جا رہی ہو‘‘۔
سنہا نے نوٹ کیا کہ چار روز گزرنے کے باوجود لوک بھون کو کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا، ’’میں نوجوان امیدواروں کے ساتھ پوری ہمدردی رکھتا ہوں‘‘۔
پوسٹ کے مطابق امتحان کا اشتہار ۲۲؍ اگست ۲۰۲۵ کو جے کے پی ایس سی نے شائع کیا تھا، اور امتحان ۷دسمبر کو منعقد کیے جانے کی اطلاع۶ نومبر کی نوٹس کے ذریعے دی گئی تھی۔
اس سے پہلے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے لوک بھون کی جانب سے عمر میں رعایت کی منظوری میں ’تاخیر‘ سے جنم لینے والی ‘‘غیر یقینی صورتحال’’ کے پیش نظر سی سی ای کے امتحان کے التوا کی درخواست بھی کی تھی۔
اس دوران نیشنل کانفرنس کے قانون ساز تنویر صادق نے ہفتے کے روز جے کے پی ایس سی امتحان کے معاملے پر لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کی جانب سے جاری وضاحت پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جب منتخب حکومت پہلے ہی فائل کو منظوری دے چکی ہو تو نئے سوالات اٹھانے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا۔
صادق نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ نے فائل باقاعدہ منظوری کے بعد بھیجی تھی’’تو پھر کسی بھی قسم کی مزید پوچھ گچھ کی بالکل کوئی ضرورت نہیں تھی‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جو طریقہ برسوں سے درست عمل کے طور پر اپنایا جاتا رہا ہے، اسے اچانک اب مشکوک نہیں بنایا جا سکتا، اور وزیر اعلیٰ نے صاف طور پر کہا ہے کہ امتحانات ملتوی ہونے چاہیے تھے۔
صادق نے اسے غیر ضروری سیاسی مداخلت قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ توانائی امیدواروں کا مسئلہ حل کرنے کے بجائے کنفیوڑن پیدا کرنے پر خرچ ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزبِ اختلاف سنیل شرما کو ’اپنی توانائی لوک بھون پر دباؤ ڈالنے میں استعمال کرنی چاہیے‘ نہ کہ اس دوہری اختیاری ڈھانچے کے اندر’چھوٹی سیاست‘ کرنے میں۔
این سی لیڈر نے کہا کہ اس معاملے پر پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ عمر میں رعایت دی جانی چاہیے اور امتحانات ملتوی کیے جانے چاہئیں اور یہ منتخب حکومت کے ساتھ ساتھ نیشنل کانفرنس قیادت کا متفقہ موقف ہے۔
صادق نے اس معاملے پر گمراہ کن معلومات پھیلانے کے خلاف بھی خبردار کیا اور کہا کہ کوئی بھی بیانیہ جو ان دو مطالبات کی نفی کرتا ہو’’یا تو جھوٹ ہے یا محض وہاٹ اباؤٹری‘‘۔
جے کے پی ایس سی امتحان کا معاملہ امیدواروں میں شدید بحث اور تشویش کا باعث بن گیا ہے، جبکہ سیاسی بیان بازی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور امیدوار اب بھی وضاحت اور ریلیف کے منتظر ہیں۔
ادھرپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ایل جی اور وزیر اعلیٰ دونوں سے اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
محبوبہ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ’’جے کے پی ایس سی سی سی ای کے امیدوار ایل جی اور سی ایم کے درمیان کشمکش میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اس شدید سردی میں وہ سڑکوں پر کھڑے ہیں اور صرف اتنی ہی بات مانگ رہے ہیں… عمر میں نرمی اور مناسب امتحانی شیڈول۔ میں ایل جی اوروزیر اعلیٰ سے اپیل کرتی ہوں کہ اس مسئلے کو مزید تاخیر کے بغیر حل کریں‘‘۔
سینئر سی پی آئی (ایم) لیڈر اور کولگام سے ایم ایل اے ایم وائی تاریگامی نے بھی تشویش ظاہر کی کہ جب عمر میں نرمی سے متعلق فیصلہ اب تک زیرِِ التوا ہے، ایسے میں اتوار کو امتحان لینا امیدواروں کو ‘‘واضح نقصان’’ میں ڈال دے گا۔
تاریگامی نے ایکس پر کہا’’جے کے اے ایس امیدواروں کے لیے بالائی عمر کی حد بڑھانے کی تجویز راج بھون (لوک بھون) کو منظوری کیلئے بھیجی گئی ہے، جبکہ امتحان کل سے شروع ہونے والا ہے۔ ایسے وقت امتحان لینا جب اتنا اہم فیصلہ زیر التوا ہو، امیدواروں کو واضح نقصان میں ڈالتا ہے‘‘۔
پروازوں میں رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے باہر سے سفر کرنے والے کئی امیدوار فلائٹ منسوخی کے باعث پھنسے ہوئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا’’امتحان اس وقت تک مؤخر کرنا چاہیے جب تک منظوری کا عمل مکمل نہ ہو جائے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔










