واشنگٹن، 2 دسمبر (یو این آئی) امریکہ نے دنیا بھر میں افغانوں کو جاری کیے گئے ویزے بھی روک دیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں امریکہ لائے گئے ایک افغان دہشت گرد نے نیشنل گارڈز کو نشانہ بنایا، اس واقعے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ میں موجود تمام افغانیوں کی دوبارہ جانچ پڑتال کا عمل شروع کردیا ہے اور دنیا بھر میں موجود افغانوں کو جاری ویزے بھی روک دیے ہیں۔
انھوں نے کہا ہزاروں ایسے افراد افغانستان سے امریکہ آئے جن سے امریکیوں اور امریکہ کی حفاظت کے لیے خطرہ موجود ہے ، اس لیے ٹرمپ انتظامیہ امریکہ آنے والے تمام افغانیوں کی دوبارہ جانچ پڑتال شروع کر رہی ہے اور تیسری دنیا کے ممالک سے آنے والے تمام افراد کی پناہ کی درخواستیں روک دی گئی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو اپنے ممالک واپس جانا ہوگا، ٹرمپ انتظامیہ قانونی امیگریشن سسٹم کو مضبوط بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔ قانونی اور غیر قانونی مہاجرین کے پروگرامز میں کمی کی گئی ہے ، امریکی محکمہ خارجہ ویزے جاری کرنے کے عمل کو مزید سخت کر رہا ہے ۔ لیوٹ نے زور دیا کہ امریکہ کا ویزا کسی کا حق نہیں بلکہ ایک مراعت ہے جو دی جاتی ہے ۔
انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں افغانوں کو جاری کیے گئے تمام ویزے روک دیے گئے ہیں اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پناہ کی درخواستوں کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے ۔ پریس کانفرنس میں متعدد افغانوں کے مجرمانہ ریکارڈ کا بھی ذکر کیا گیا۔
کیرولائن لیوٹ نے کہا کہ 90 فی صد ریپبلکن اراکین کانگریس صدر ٹرمپ کو ایک رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انھوں نے صومالی مہاجرین کے فراڈ اور کووِڈ کے دوران اربوں ڈالرز کے ناجائز فائدے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایسے افراد امریکی قوانین سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں، انھیں یہاں رہنے کا حق نہیں۔








