کابینہ کی سب کمیٹی کی پیش کی گئیں سفارشات پر غور ہو جائےگا ‘متوقع منظوری کے بعد فائل ایل جی سنہا کو بھیج دی جائےگی
سرینگر/۲دسمبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سربراہی میں بدھ کی صبح سول سیکریٹریٹ جموں میں کابینہ کا ایک اہم اور غیر معمولی اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے ، جس میں جموں و کشمیر کی ریزرویشن پالیسی میں بڑی تبدیلیوں پر فیصلہ کیے جانے کا بھرپور امکان ہے ۔
ذرائع کے مطابق یہ اجلاس نہ صرف ریزرویشن پالیسی کے جامع جائزے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے بلکہ اس دوران دیگر اہم انتظامی و پالیسی امور پر بھی غور و خوض متوقع ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف طبقات کی جانب سے ریزرویشن کے ڈھانچے پر اُٹھنے والے اعتراضات اور مطالبات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے ۔
خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کابینہ میٹنگ میں اوپن میرٹ کے حصے میں ممکنہ اضافے سے متعلق اہم فیصلے سامنے آسکتے ہیں۔ موجودہ پالیسی کے تحت مختلف زمروں میں مجموعی طور پر ۰۷فیصد تک ریزرویشن ہے ، جس پر عمومی زمرے کے امیدوار مسلسل ناراضگی کا اظہار کرتے آئے ہیں۔
حکومت کے قریب ذرائع نے مزید بتایا کہ فیصلوں کی حتمی منظوری لیفٹیننٹ گورنر کی توثیق سے مشروط ہوگی، تاہم کابینہ کی منظوری کے بعد اصلاحات کی راہ کافی حد تک ہموار ہو جائے گی۔
اس اہم اجلاس سے کشمیری نوجوانوں، سرکاری ملازمتوں کے امیدواروں اور تعلیمی اداروں میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کی نظریں جڑی ہوئی ہیں، کیونکہ ریزرویشن پالیسی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ریاست کے سماجی اور انتظامی نظام پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے ۔
حکومت نے پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ اس بار پالیسی کو زمینی حقائق اور موجودہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے گا۔
دریں اثنا جموں کشمیر حکومت نے منگل کے روز روزگار کے خواہشمندوں کو عمر میں رعایت دینے کے فیصلے کی جانب ایک اہم قدم بڑھایا، جب اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس تجویز کو منظور کر کے حتمی منظوری کے لیے اسے راج بھون بھیج دیا ہے۔
یہ پیش رفت نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور قانون ساز تنویر صادق نے ظاہر کی، جن کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فائل کو سرکاری سطح پر کلیئر کر کے باضابطہ طور پر گورنر کی منظوری کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
ایک خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ کی منظوری کے ساتھ، اب حتمی فیصلہ راج بھون کے پاس ہے، جس کے بعد باضابطہ سرکاری حکم نامہ جاری ہونے کی توقع ہے۔
یہ اقدام جموں و کشمیر کے ہزاروں امیدواروں اور مسابقتی امتحانات میں شرکت کرنے والوں کے لیے ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو گزشتہ کئی برسوں میں بھرتیوں میں طویل تاخیر کے باعث عمر میں رعایت کا مطالبہ کر رہے تھے۔
جموں و کشمیر میں ۹۱۰۲ کے بعد سے بھرتی کے عمل کو بار بار تعطل کا سامنا رہا ہے ۔ انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی، بھرتی ایجنسیوں کے قیام میں تاخیر، سروس رولز میں تبدیلیاں، اور طویل عدالتی مقدمات نے مسلسل بھرتیوں کو متاثر کیا۔ ان برسوں میں کئی امیدوار بالائی عمر کی حد پار کر گئے اور انہیں پوسٹوں کے لیے درخواست دینے کا منصفانہ موقع نہیں ملا۔
گزشتہ دو برسوں میں عمر میں رعایت کے مطالبات تیز ہو گئے، جب نوجوانوں اور مختلف سیاسی جماعتوں نے یہ دلیل دی کہ امیدواروں کو ان تاخیرات کی سزا نہ دی جائے جو ان کے اختیار سے باہر تھیں۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ نوجوانوں کی بے روزگاری اور بھرتیوں میں ناانصافی کو دور کرنا اس کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔ عمر میں رعایت کی منظوری اس سمت میں پہلا بڑا انتظامی قدم ہے۔
اگر راج بھون نے اس تجویز کو منظوری دے دی تو یہ رعایت مختلف بھرتی زمروں پر لاگو ہونے کی توقع ہے، جس سے ہزاروں امیدواروں کو فوری ریلیف ملے گا جو عمر کی حد تجاوز کرنے کے باعث نااہل ہو چکے۔
کابینہ کی سب کمیٹی کی پیش کی گئیں سفارشات پر غور ہو جائےگا ‘متوقع منظوری کے بعد فائل ایل جی سنہا کو بھیج دی جائےگی










