سرینگر/ یکم دسمبر
جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے چیئرمین اور ایم ایل اے ہندوارہ سجاد لون نے یونین ٹیریٹری کے ریزرویشن ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں کی خبروں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ’کوئی علم نہیں کہ ریزرویشن کے بارے میں انڈین ایکسپریس کی رپورٹ پر یقین کیا جائے یا نہیں‘‘، لیکن وہ خدشات جو انہوں نے مہینوں پہلے ظاہر کیے تھے، اب سچ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
اپنی۳ جولائی کی وارننگ یاد دلاتے ہوئے لون نے کہا کہ انہیں کافی عرصے سے یہ خوف تھا کہ ’’جو بھی تبدیلیاں ہوں گی، اگر ہوں گی، وہ کشمیری زبان بولنے والی آبادی کی قیمت پر ہوں گی‘‘۔
پیپلز کانفرنس کے صدر نے دعویٰ کیا کہ حتیٰ کہ بی جے پی نے بھی اپنی حکومت کے دوران ریزروڈ بیک ورڈ ایریا (آر بی اے) زمرے کو چھیڑنے سے گریز کیا تھا۔
لون نے کہا’’میں باوثوق طور پر کہہ سکتا ہوں کہ بی جے پی کے دور میں، جب ریزرویشن کا فیصلہ لیا جا رہا تھا، بی جے پی بھی ڈر گئی تھی اور آخری لمحے میںآر بی اے کو نہ چھیڑنے کا فیصلہ کیا۔ وجہ یہ تھی کہ یہی وہ واحد ریزرویشن ہے جس سے کشمیریوں کو کچھ راحت ملتی ہے‘‘۔ان کا مزید کہنا تھا’’جو کام بی جے پی نے کشمیریوں کے ساتھ کرنے کی ہمت نہ کی، اگر انڈین ایکسپریس کی رپورٹ درست ہے تو این سی نے اب کر دیا ہے‘‘۔
نیشنل کانفرنس پر سخت تنقید کرتے ہوئے لون نے کہا’’وہ اپنے پرانے طریقوں پر واپس آ گئے ہیں۔ تاریخی طور پر وہ ہمیشہ دلّی اور سرینگر کے درمیان ہونے والے ہر فکس میچ میں دلالی کرتے آئے ہیں‘‘۔انہوں نے اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ کچھ دفعات تبدیل نہیں کی جا سکتیں کیونکہ وہ پارلیمنٹ سے آئی ہیں۔
لون نے کہا’’یہ کیا مضحکہ خیز دعویٰ ہے کہ ایس ٹی پارلیمنٹ نے طے کیا ہے اس لیے اسے بدلا نہیں جا سکتا؟ ریزرویشن اور اوپن میرٹ کے درمیان ۴۰:۶۰ تناسب بھی تو اسی فیصلے کا ضمنی نتیجہ ہے۔ اس منطق سے تو پھر کچھ بھی کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا‘‘۔
ان کاکہنا تھا کہ یہ مسئلہ قانونی نہیں بلکہ سیاسی ہمت کا ہے۔’’حقیقت یہ ہے کہ آپ کچھ بھی اور سب کچھ بدل سکتے ہیں۔ لیکن آپ بدلنا نہیں چاہتے۔ آپ جھوٹ، فریب اور دھوکے کے پیچھے چھپتے ہیں‘‘۔انہوں نے مبینہ تبدیلیوں کی بنیاد پر بھی سوال اٹھایا اور حکومت سے قانونی جواز سامنے لانے کا مطالبہ کیا۔
ہندواڑہ کے ممبر اسمبلی نے کہا ’’ یہ قانونی رائے کس نے دی؟ آخری نتیجہ کس نے طے کیا؟ کیا یہ تحقیق کا نتیجہ ہے، یا کسی کا وہم، یا انتخابی مصلحت کا؟ کیا حکومت اس نام نہاد تحقیق کے پیمانے عوام کے ساتھ شیئر کر سکتی ہے؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ یہ ’فاضل محققین‘ کون تھے؟‘‘
لون نے خبردار کیا کہ موجودہ انتظامیہ جموں و کشمیر کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔انہوں نے کہا’’یہ حکومت تاریخ میں انتہائی نفرت اور حقارت کے ساتھ یاد رکھی جائے گی۔ یہ لگتا ہے کہ سماجی تباہی کے ہر وہ پتھر الٹ دینا چاہتی ہے جو ممکن ہو۔ یہ حکومت کشمیریوں کے وجود کے لیے خطرہ بن گئی ہے‘‘۔
اپنے دیرینہ مؤقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے نان گزٹیڈ آسامیوں کے لیے ضلع سطح کی بھرتی اور گزٹیڈ عہدوں کے لیے ڈویڑنل بھرتی کی بحالی پر زور دیا۔اختتام پر انہوں نے ایک پرانا مقولہ دہرایا’’بیل محل میں داخل ہونے سے بادشاہ نہیں بنتا؛ بلکہ محل اصطبل بن جاتا ہے‘‘۔لون نے یاد دلایا’’میں نے پہلے ہی کہا تھا: میری بات لکھ لیں۔ اگر اس حکومت کی طرف سے کوئی رپورٹ آتی ہے تو کشمیری زبان بولنے والی آبادی کو ایک بار پھر نقصان ہی پہنچے گا‘‘۔لون نے اصرار کیا کہ انصاف کے لیے ضلع اور صوبائی سطح کی بھرتی کی بحالی ہی واحد معتبر ضمانت ہے۔










