سرینگر/۲۸ نومبر
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ سابقہ حکومتیں دہشت گردانہ حملے کے بعد جواب دینے میں ہچکچاتی تھیں، لیکن نیا بھارت اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے نہ جھکتا ہے اور نہ ہی ہچکچاتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قومی سلامتی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ سب کو ساتھ لے کر چلنے پر یقین رکھا جائے‘لیکن دھرم کے تحفظ کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہونا بھی ضروری ہے۔
مودی نے کرناٹک کے اْڈپی کے مندر والے قصبے میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا’’پچھلی حکومتیں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہتی تھیں، لیکن نیا بھارت اپنے لوگوں کے تحفظ میں نہ جھکتا ہے نہ ہچکچاتا ہے‘‘۔
وزیر اعظم یہاں ’لکشا کانتا گیتا پاراینا‘ میں شرکت کے لیے آئے تھے، جہاں ایک لاکھ لوگوں نے شریمد بھگود گیتا کی تلاوت کی۔ یہ پروگرام اْڈپی کے سری کرشنا مٹھ نے منعقد کیا تھا۔
مودی نے کہا’’گیتا ہمیں امن اور سچائی کے لیے جدوجہد کرنے کی تعلیم دیتی ہے، اور ظلم ڈھانے والوں کو کچلنے کی ضرورت بھی سکھاتی ہے۔ ہم ’وسودھیو کٹمبکم‘(پوری دنیا ایک خاندان ہے) پر یقین رکھتے ہیں اورجو دھرم (سچائی و انصاف) کا تحفظ کرتے ہیں، دھرم ان کا تحفظ کرتا ہے کا بھی جاپ کرتے ہیں‘‘۔
وزیر اعظم نے اس سال اپریل میں پہلگام کے دہشت گردانہ حملے کو یاد کیا، جس میں ۲۶؍افراد، جن میں زیادہ تر سیاح تھے، مارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں میں کرناٹک کے لوگ بھی شامل تھے۔
مودی نے کہا کہ ملک نے’آپریشن سندور‘ کے دوران حکومت کے عزم کو دیکھا ‘ پاکستان میں دہشت گرد لانچ پیڈز کے خلاف بھارت کا فوجی جواب، جس میں ٹھیک نشانے پر حملے کیے گئے۔
وزیر اعظم نے کہا’’ہم لال قلعے سے کرشن کی کرپا کا پیغام دیتے ہیں اور مشن سدّرشن چکر کا اعلان بھی کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے وضاحت کی کہ مشن سدّرشن چکر اہم مقامات، صنعتی علاقوں اور عوامی جگہوں کے ارد گرد ایک سکیورٹی دیوار فراہم کرتا ہے۔
مودی نے اْڈپی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس قصبے نے پانچ دہائی پہلے حکمرانی کا ایک نیا ماڈل پیش کیا تھا، جو آج صفائی اور پانی کی فراہمی کی قومی پالیسیوں کی رہنمائی کرتا ہے۔انہوں نے اْڈپی کے پیجاوارا مٹھ کے سوامی وشویشا تیرتھ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ رام جنم بھومی تحریک میں ان کا کردار پورا ملک جانتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی رہنمائی ہی نے حال ہی میں ایودھیا کے رام مندر میں پرچم کشائی کی راہ ہموار کی۔
اس سے قبل، مودی نے تاریخی کنکا منٹپ کا دورہ کیا اور ۱۴ویں۱۵ویں صدی کے ممتاز سنت‘فلسفی کیرتنکار کنک داسا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔کنک داسا وہ شخصیت ہیں جن کے حوالے سے مشہور واقعہ ہے کہ اْڈپی سری کرشنا مندر میں بھگوان کرشن کا بت مغرب کی طرف مڑ گیا تھا۔
بعد میں وزیر اعظم نے’لکشا گیتا پٹھن‘ میں حصہ لیا، جہاں پیریا پوتھیگے مٹھ کے سیر سوگنندرا تیرتھ، کرناٹک کے گورنر تاورچند گہلوت اور دیگر بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے خود بھی بھجن پڑھے۔
مودی نے سری کرشنا مندر میں پوجا بھی کی، جہاں ان کا استقبال سوگنندرا تیرتھ، مٹھ کے دیوان اور سینئر مندری اہلکاروں نے روایتی اعزازات کے ساتھ کیا۔
وزیر اعظم نے مندر کے مقدس احاطے میں کچھ وقت گزارا، جہاں انہوں نے کنک داسا کی عقیدت اور مندر سے جڑی ثقافتی وراثت کی اہمیت کو سراہا۔
جب وہ کرشنا مٹھ کے احاطے میں داخل ہوئے تو انہیں ’پورن کنبھا سوگتم‘ (روایتی عزت و احترام کے ساتھ استقبال) دیا گیا۔ انہیں چاندی سے مزین تلسّی جاپ مالا اور شَنگھا، چکر، گدّا اور پدما پر مشتمل مدرائیں پیش کی گئیں، جنہیں مادھوا اور جنوبی بھارت کی کئی برہمن برادریاں روزانہ کی پوجا میں استعمال کرتی ہیں۔
مودی نے ۲۰۰۸ میں بھی اس مندر کا دورہ کیا تھا، جب وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔ اس وقت بھی یہی سوامی جی کرشنا مٹھ کے انتظامی سربراہ تھے۔
مندر کے قصبے میں ان کی آمد پر ایک شاندار روڈ شو منعقد کیا گیا۔ وزیر اعظم منگلورو ایئرپورٹ پر اترے اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے اْڈپی پہنچے۔
اپنی گاڑی کے رَننگ بورڈ پر کھڑے ہو کر وزیر اعظم نے پرجوش ہجوم کی طرف ہاتھ ہلایا، جنہوں نے ان کی گاڑی پر پھول برسائے۔ مودی نے بھی جواباً ہجوم کی طرف پھول اچھالے۔راستے بھر زعفرانی جھنڈیاں اور بی جے پی کے پرچم لہرا رہے تھے۔
اس پرمسرت ماحول کو ساحلی کرناٹک کے روایتی ثقافتی دستوں کی پرفارمنس نے مزید شاندار بنا دیا۔
(ندائے مشرق ڈیسک)










