امروہہ 26 نومبر(یواین آئی) اتر پردیش کے ضلع امروہہ کے صنعتی علاقے گجرولہ میں کسانوں اور کھیتی باڑی کے مزدوروں نے دہلی کسان تحریک کو پانچ سال گزر جانے پر زیر التوا مطالبات کو لے کر الگ الگ دھرنا مظاہرہ کیا۔
بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) اور کھیتی باڑی کے مزدوروں کی اپیل پر بدھ کو سوامی ناتھن کمیشن کے فارمولے پرکم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی قانونی ضمانت، مکمل قرض معافی، بجلی ترمیمی بل کی منسوخی، بجلی کی نجکاری اور اسمارٹ میٹر پر پابندی لگانے اور قرض معافی، کسانوں پر درج مقدمات واپس لینے کے مطالبے کو لے کر صنعتی علاقے گجرولہ میں دھرنا مظاہرہ کیا۔
اس موقع پربی کے یو متحدہ محاذ کے قومی صدر نریش چودھری نے کہا کہ زرعی شعبے اور زرعی مصنوعات کی مارکیٹنگ میں اصلاحات کے نام پر سال 2020 میں لائے گئے تین زرعی قوانین، جن کی مخالفت میں ملک کے کسانوں نے ایک سال سے زیادہ وقت تک دہلی کا گھیراؤ کیاتھا۔ جس کے بعد 19 نومبر 2021 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم سے اپنے خطاب میں کسان پیداوارتجارت اور کامرس (فروغ اور سہولت) ایکٹ 2020، ضروری اشیاء (ترمیمی) ایکٹ 2020 اور کسان (با اختیار بنانے اور تحفظ) قیمت کی یقین دہانی اور زرعی سروس پر معاہدہ ایکٹ 2020 کو واپس لینے کا اعلان کیاتھا۔
مسٹر نریش چودھری نے کہا کہ کسانوں نے اس وقت تین قوانین کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ ایم ایس پی نظام کو ختم کر کے کسانوں کو بڑے صنعتی گھرانوں اور کارپوریشنوں کی رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے گا۔ کسان رہنما نے مزید کہا کہ یہ کوئی پہلی مثال نہیں ہے جب مرکز میں 2014 سے برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کو تین زرعی قوانین سے لے کر دیگر کئی فیصلوں کو منسوخ کرنے یا ان میں ترمیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
آگے بھی ایسا ہو گا، یہ ابھی کہا نہیں جا سکتا ہے ۔
انہوں نے مرکز کی مودی حکومت پر الزام لگایا کہ پانچ سال گزر گئے لیکن ابھی تک کسانوں سے کیا گیا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ جبکہ آج ملک کا کسان قرض میں ڈوبا ہوا ہے ، ہر روز خودکشی کر رہا ہے ۔ مسٹر نریش چودھری نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوامی ناتھن کمیشن کے فارمولے کی بنیاد پر ایم ایس پی کی قانونی ضمانت طے ہو، کسانوں اور کھیت مزدوروں کا سرکاری اور غیر سرکاری قرض معاف ہو، بجلی ترمیمی بل کو منسوخ کیاجائے ، بجلی کے شعبے کی نجکاری اور اسمارٹ میٹر پر روک لگائی جائے ۔
ملک کے مختلف علاقوں میں کسانوں پر درج مقدمات واپس ہوں اور ریاستوں میں اصلی ڈی اے پی کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔ انہوں نے دہرایا کہ دہلی دھرنے مظاہرہ کے دوران 700 شہیدوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ بدھ کو کیاگیا دھرنا مظاہرہ صرف شروعات ہے ۔ اگر حکومت نے اب بھی وعدے پورے نہیں کیے تو آنے والا وقت ایک اور بڑا مظاہرہ دیکھے گا۔










