جموں/۲۲نومبر
جموں کشمیر میں بجلی ٹیرف میں مجوزہ۲۰فیصد اضافے کو اپوزیشن لیڈر سنیل شرما نے ’انتخابی دھوکہ بازی‘قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت پر شدید تنقید کی ہے ۔ شرما کا کہنا ہے کہ این سی نے انتخابات سے قبل عوام کو مفت بجلی دینے کا وعدہ کرکے ووٹ لیے ، مگر اب انہی عوام پر بھاری مالی بوجھ ڈالنے کی تیاری کر رہی ہے ۔
شرما نے کہا کہ این سی کا۲۰۲۴کا انتخابی منشور اپنی ہی جھوٹی یقین دہانیوں کے بوجھ تلے دب کر بیٹھ گیا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہر گھر کو۲۰۰یونٹ مفت بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود نہ صرف یہ وعدہ پورا نہیں ہوا بلکہ اب حکومت لوگوں کی جیبیں خالی کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔
بی جے پی لیڈر نے عمر عبداللہ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا’’اگر وزیر اعلیٰ میں ذرا سا بھی اخلاقی حوصلہ ہے تو وہ بتائیں کہ کتنے گھروں کو واقعی۲۰۰یونٹ مفت بجلی فراہم کی گئی؟ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں کس حد تک گمراہ کیا گیا ہے ‘‘۔
بی جے پی لیڈر کے مطابق اس اضافے نے عوام، تاجروں، اور مختلف سیاسی جماعتوں میں شدید ناراضگی پیدا کر دی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف عوام دشمن ہے بلکہ معاشی طور پر پہلے سے پریشان لوگوں پر ایک نیا بوجھ ہے ۔
سنیل شرما نے واضح کیا کہ بی جے پی اس مجوزہ ٹیرف ہائیک کی سخت مخالفت کرے گی اور اسے کسی صورت عوام پر مسلط ہونے نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر اس تجویز کو واپس لینا چاہیے اور انتخابات میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے ، نہ کہ اُن لوگوں کو سزا دے جو اسی حکومت پر اعتماد کرکے اسے اقتدار میں لائے ۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عوام مہنگائی، بیروزگاری اور بد انتظامی سے پہلے ہی نڈھال ہیں، ایسے میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل قبول اور سراسر استحصالی اقدام ہے ۔
شرما نے زور دے کر کہا کہ نیشنل کانفرنس حکومت کو عوامی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے اوروہی سہولیات فراہم کرنی چاہئیں جن کا وعدہ کیا گیا تھا۔










