سائبرآباد، 21 نومبر (یو این آئی) ڈیجیٹل بوم نے جہاں ایک جانب بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں دوسری جانب اس کے نتیجے میں سائبر جرائم میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے ، جس کا اثر خاندانوں، نوجوانوں اور بچوں پر پڑ رہا ہے ۔
اپنے تازہ مشورے میں سائبرآباد پولیس نے وارننگ جاری کی ہے کہ آن لائن بیٹنگ، ڈیپ فیک ابیوز، رومانس اسکیم، بچوں کو نشانہ بنانے والے نقصان دہ گیم اور سوشل میڈیا پر غلط مواد، سماجی رویّے اور ذہنی صحت میں تبدیلی پیدا کررہے ہیں۔ مشورے میں کہا گیا ہے ، ”مجرم اب گھروں میں داخل نہیں ہوتے بلکہ اسکرین کے ذریعے آپ کے ذہن میں گھس جاتے ہیں۔”
آن لائن بیٹنگ اب ایک عام لت بن چکی ہے جو نوجوانوں کو قرض، ذہنی دباؤ اور افسوسناک نتائج کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ بڑے پیمانے پر ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہو رہا ہے ۔ خواتین کے خلاف یہ سائبر مجرم بلیک میلنگ کے لیے جعلی مواد تیار کر رہے ہیں۔ رومانس اسکیم اور فرضی کالیں اکثر پیسے لوٹنے کے لیے کی جاتی ہیں۔
نوکری دلانے کے نام پر فرضی کالز، بیرونِ ملک ملازمت کے اسکیم اور جعلی سرمایہ کاری پلیٹ فارم ہزاروں نوجوان امیدواروں کو آسانی سے جال میں پھانس رہے ہیں۔ غیر نقصان دہ گیمز کی شکل میں خطرناک آن لائن چیلنج دوبارہ سامنے آ رہے ہیں، جس سے بچے خطرناک اور خود کو نقصان پہنچانے والے رویّوں کے جال میں پھنس رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر شہرت کا جنون نوجوانوں کو جان لیوا اسٹنٹ کرنے پر مجبور کر رہا ہے ۔ کوریئر سروس کا غلط استعمال کرکے غیر قانونی سامان انجانے میں گھروں تک پہنچایا جا رہا ہے ۔ سیکسٹارشن اور بائیومیٹرک ڈیٹا کے غلط استعمال نے بڑھتے ہوئے سائبر خطرات کی فہرست میں مزید اضافہ کر دیا ہے ۔
سائبرآباد پولیس نے ان بڑھتے ہوئے خطرناک جرائم کے پیشِ نظر شہریوں سے چوکس رہنے ، محفوظ آن لائن طریقے اپنانے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا سائبر جرم کی فوراً اطلاع دینے کی اپیل کی ہے ۔ اس نے زور دے کر کہا کہ تیزی سے کمزور ہوتی ڈیجیٹل دنیا میں بیداری اور احتیاط ہی سب سے مضبوط تحفظ ہے ۔










