چنڈی گڑھ، 21 نومبر (یو این آئی) پنجاب-ہریانہ ہائی کورٹ نے جمعہ کو پنجاب حکومت کو کھڈور صاحب کے ایم پی امرت پال سنگھ کی پیرول کی درخواست پر ایک ہفتے کے اندر فیصلہ دینے کا حکم دیا۔
عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس یکم سے 19 دسمبر تک شیڈول ہے اور حکومت کو بلاتاخیر جواب دینا چاہیے ۔
قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے ) کے تحت آسام کی ڈبروگڑھ سینٹرل جیل میں بند امرت پال سنگھ نے پارلیمانی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے عبوری رہائی کی درخواست کی ہے ۔ ان کی درخواست میں تجویز ہے کہ یا تو ایوان میں ان کی ذاتی موجودگی کے انتظامات کیے جائیں یا ان کی شرکت کو آسان بنانے کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں۔
سماعت کے دوران بنچ نے پہلے سوال کیا تھا کہ حراست میں لیا گیا کوئی شخص پارلیمنٹ میں کیسے حاضر ہو سکتا ہے جب کہ نظر بندی کا حکم نافذ ہے ۔ امرت پال کے وکیل نے استدلال کیا کہ درخواست دفعہ 15 کے تحت ریلیف تک محدود ہے ، جو نظر بندی کے درست رہنے کے باوجود عارضی پیرول کی اجازت دیتی ہے ۔
وکیل ایمان سنگھ کھارا کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ امرت پال اپریل 2023 سے احتیاطی حراست میں ہیں، اس کے باوجود انہوں نے کھڈور صاحب سے 2024 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور تقریباً چار لاکھ ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ پٹیشن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تقریباً 19 لاکھ ووٹرز کی نمائندگی کرتے ہیں، جس سے پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی مفاد عامہ کا معاملہ ہے ۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف تیسرا نظر بندی کا حکم 17 اپریل 2024 کو جاری کیا گیا تھا اور بعد ازاں جون میں ایک مشاورتی بورڈ نے اسے برقرار رکھا تھا۔ پیرول کے لیے باضابطہ درخواست 13 نومبر کو جمع کرائی گئی تاہم ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔










