شری گنگا نگر، 18 نومبر (یو این آئی) راجستھان میں انتظامی اور ذہنی طور پر ہراسانی کے باعث سرکاری ملازمین اور اساتذہ کی خودکشی جیسے دردناک واقعات پر روک لگانے کے مطالبے کے سلسلے میں، اکھل راجستھا ن راجیہ کرمچاری سنیکت مہاسنگھ کی ریاست گیر اپیل پر منگل کو پوری ریاست میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
اس کے تحت شری گنگا نگر میں مہاسنگھ سے وابستہ ملازمین اور اساتذہ نے کالی پٹّی باندھ کر اپنے دفاتر میں کام کیا۔
مہاسنگھ کے ضلع صدر اشوک کلوانیا اور وزیر رادھے شیام یادو نے بتایا کہ گزشتہ دنوں دو افسوسناک واقعات سامنے آئے جنہوں نے ریاست کے لاکھوں ملازمین اور اساتذہ میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے ۔ پہلے واقعے میں پنچایت سمیتی شاہ پورہ، بھلواڑہ میں گرام وکاس افسر کے عہدے پر تعینات شنکر لال مینا نے سرکاری کاموں سے متعلق غیر ضروری دباؤ اور ہراسانی سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔
انہوں نے بتایا کہ دوسرے واقعے میں جھوٹواڑا اسمبلی حلقے میں بی ایل او کے طور پر تعینات استاد مکیش کمار جانگیڑ نے بھی اسی طرح کی ذہنی اور انتظامی سطح پر ہراسانی کے سبب خود کشی کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کے کچھ اعلیٰ افسران اپنی رینکنگ اور کارکردگی کی اندھی دوڑ میں ملازمین پر ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں، جس کی وجہ سے حساس ملازمین زندگی کی جدوجہد میں ہار مان کر خودکشی جیسے قدم اٹھانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم جیسے وہاٹس ایپ گروپس کو ان افسران نے ‘تھرڈ ڈگری ٹارچر روم’ بنا دیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ان گروپس میں سینکڑوں ملازمین اور اساتذہ کے سامنے چند افراد کو نشانہ بنا کر اس قدر اذیت دی جاتی ہے کہ وہ ذہنی تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں اور بالآخر خودکشی کا راستہ اختیار کر تے ہیں۔ مہاسنگھ کے عہدیداروں نے ان دونوں واقعات کو ‘سنگین ادارہ جاتی قتل’ قرار دیا ہے ۔








