جوڑا شیرین باغ سپر اسپیشلیٹی ہسپتال میں تعینات‘ ڈیجیٹل آلات ضبط/’اہلیہ خواتین کو انتہاپسندی کی طرف مائل کر رہی تھیں‘
سرینگر/۱۸ نومبر
کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) نے منگل کو سرینگر، کولگام اور اننت ناگ اضلاع میں جاری غیرقانونی سرگرمیوں کی تفتیش کے سلسلے میں مربوط تلاشی کارروائیوں کے دوران سرینگر کے ایک ڈاکٹر اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا۔
حکام نے کہا کہ تلاشی کارروائیاں چار مقامات پر اْن وارنٹس کی بنیاد پر کی گئیں جو نامزد عدالت نے این آئی اے ایکٹ کے تحت جاری کیے تھے، اور یہ کارروائیاں اْس ایف آئی آر سے متعلق تھیں جو بھارتیہ نیایا سنہِتا اور غیرقانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔
کارروائی کے دوران تفتیشی اہلکاروں نے ڈاکٹر عمر فاروق بھٹ ‘ جو اس وقت سپر اسپیشیالٹی اسپتال، شیرین باغ سرینگر میں تعینات ہیں ‘اور ان کی اہلیہ شہزادہ اختر، ساکن بوگام کولگام، کو حراست میں لیا۔
حکام کے مطابق سی آئی کے کی ٹیموں نے متعدد ڈیجیٹل آلات ضبط کیے جن میں پانچ موبائل فون، پانچ سم کارڈ، ایک ٹیبلٹ اور دیگر مواد شامل ہے جو تفتیش کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ برآمد شدہ آلات فارنزک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں تاکہ ممکنہ ڈیجیٹل نیٹ ورکس کا سراغ لگایا جا سکے اور آن لائن سرگرمیوں کی حد کا تعین کیا جا سکے۔
تفتیش کاروں نے کہا کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈاکٹر عمر فاروق، جو ایک سرکاری ملازم ہیں، مبینہ طور پر اپنی پیشہ ورانہ حیثیت کا غلط استعمال ایسے آن لائن سرگرمیوں کے لیے کر رہے تھے جو عوامی نظم و نسق اور قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ سمجھی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں افراد پر شبہ ہے کہ وہ اپنے سماجی رتبے اور پیشہ ورانہ حیثیت کے پردے میں غیرقانونی سرگرمیوں کو چھپا رہے تھے۔
حکام نے مزید بتایا کہ خاتون ملزمہ شہزادہ اختر پر الزام ہے کہ وہ آن لائن اور آف لائن روابط کے ذریعے مقامی خواتین کو انتہاپسندی کی طرف مائل کر رہی تھیں، اور ان کے کالعدم دْخترانِ ملت سے ممکنہ روابط کی جانچ جاری ہے۔
ابتدائی اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک وسیع تر نیٹ ورک موجود ہے جس میں ایسے معاونین شامل ہیں جو انتہاپسندانہ مواد کو بڑھاوا دینے اور کمزور طبقات کو متاثر کرنے میں مصروف تھے۔
تلاشی کارروائیاں اْس وسیع کریک ڈاؤن کا حصہ ہیں جو اْن افراد کو نشانہ بنا رہا ہے جن پر سرحد پار موجود ہینڈلرز کے ساتھ ہم آہنگی کے ذریعے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا غلط استعمال کرنے کا شبہ ہے۔
حکام نے کہا کہ ایسی سرگرمیوں میں گمراہ کن معلومات پھیلانا، انتہاپسندانہ بیانیے کو فروغ دینا اور خطے میں بے چینی پھیلانے کی کوششیں شامل تھیں۔
سی آئی کے نے کہا کہ وہ عوامی نظم و نسق اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے آپریٹرز، سہولت کاروں اور ہمدردوں کے نیٹ ورکس کی شناخت اور انہدام پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ مزید کارروائی تفتیش کے آگے بڑھنے کے ساتھ متوقع ہے۔
اس دوران جموں میں سرکاری میڈیکل کالج (جی ایم سی) اور شری مہاراجہ گلاب سنگھ اسپتال میں منگل کے روز عملے، طلبہ اور ڈاکٹروں کے زیرِ استعمال لاکرز کی جانچ کی گئی۔حکام کے مطابق یہ کارروائی سخت سیکیورٹی انتظامات کے درمیان ایک احتیاطی مشق کے طور پر انجام دی گئی۔
یہ کارروائی اس پس منظر میں کی گئی کہ حال ہی میں کچھ ڈاکٹروں کے ایک بڑے دہشت گردی نیٹ ورک میں ملوث ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا، اور ۱۰ نومبر کو دہلی کے لال قلعے کے نزدیک کار دھماکے کے بعد اس کیس کی گتھیاں مزید پیچیدہ ہو گئی تھیں۔
اس سے قبل ۸ نومبر کو جی ایم سی اننت ناگ کے ایک ڈاکٹر کے لاکر سے اے کے رائفل سمیت اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا تھا۔
جی ایم سی جموں کے پرنسپل ڈاکٹر آشوتوش گپتا نے پی ٹی آئی کو بتایا’’ہم تمام لاکرز کی جانچ ایک معمول کی مشق کے طور پر کر رہے ہیں۔ ہم نے تمام لاکر ہولڈرز سے چابیاں طلب کی ہیں۔ انہیں چیک کیا جائے گا اور دوبارہ الاٹ کیا جائے گا‘‘۔
ڈاکٹر گپتا نے کہا’’یہ ایک باقاعدہ عمل ہے۔ ہم لاکرز کا لاگ بْک رکھتے ہیں۔ یہ شفافیت برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے‘‘۔اسی نوعیت کی جانچ ایس ایم جی ایس اسپتال میں بھی جاری ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ ہفتے سرینگر کے جی ایم سی اور ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں بھی اس مشق کا انعقاد کیا گیا تھا تاکہ تمام ذاتی لاکرز کی نشاندہی اور باقاعدہ لیبلنگ کی جا سکے۔
یہ قدم اننت ناگ میں اسلحہ کی برآمدگی کے بعد جاری کردہ سرکیولر کے تحت اٹھایا گیا تھا، جو ایڈمنسٹریٹر، اسوسی ایٹڈ ہاسپٹلز، سری نگر نے جاری کیا تھا۔









