سرینگر/۱۴؍ نومبر
سرینگر کے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے جمعہ کو بڈگام ضمنی انتخاب کے نتیجے پر بالواسطہ ردعمل دیتے ہوئے ایک قرآنی آیت شیئر کی اور تکبر کو ’تباہی کا نسخہ‘ قرار دیتے ہوئے عاجزی اور خود احتسابی پر زور دیا۔
سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں مہدی نے سورہ اعراف کی آیت ۱۴۶ کا حوالہ دیا، جو تکبر اور نشانیوں کو نظرانداز کرنے کے بارے میں خبردار کرتی ہے۔
آیت میں ہے: ’’میں اپنی نشانیاں ان لوگوں سے پھیر دوں گا جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں… اور اگر وہ راہِ ہدایت دیکھیں تو اسے اختیار نہیں کریں گے، لیکن اگر وہ گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے اختیار کر لیں گے۔‘‘
لوک سبھا کے رکن نے لکھا کہ اس آیت کا اصل سبق یہ ہے کہ ’’تکبر تباہی کا نسخہ ہے‘‘ اور یہ کہ ’’باشعوری، عاجزی اور خود احتسابی ہی راستہ ہے۔‘‘
اگرچہ انہوں نے بڈگام ضمنی انتخاب کا نام نہیں لیا، لیکن ان کی پوسٹ کو نتیجے پر ایک نرم مگر واضح تبصرہ سمجھا گیا، جس میں پی ڈی پی کے آغا سید منتظر مہدی نے این سی کے آغا سید محمود الموسوی کو۴ہزار۴۷۸ ووٹوں سے شکست دی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بڈگام میں نیشنل کانفرنس کی ناکامی کے بعد پارٹی کے اندر ردعمل کے پس منظر میں مہدی کا یہ تبصرہ سامنے آیا ہے۔ یہ وہی نشست تھی جو گزشتہ برس اس وقت خالی ہوئی جب عمر عبداللہ نے گاندربل میں جیت برقرار رکھنے کے لیے اس سے استعفیٰ دیا تھا۔
یہ نشست ایک سخت اور ڈرامائی انتخابی مہم کا گواہ بنی، جس میں نیشنل کانفرنس (این سی) کے اندرونی اختلافات نمایاں تھے۔
سینئر لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی نے پارٹی کے امیدوار آغا سید محمود الموسوی کی مہم چلانے سے علانیہ انکار کیا تھا، اس بنیاد پر کہ این سی حکومت اپنے انتخابی وعدوں کو پورا نہیں کر رہی، جن میں ریزرویشن سب کمیٹی کی رپورٹ کے نفاذ میں تاخیر، اسمارٹ بجلی میٹروں کے مسائل، اور ریاستی درجہ و آرٹیکل ۳۷۰کی بحالی کے وعدوں سے پسپائی شامل ہیں۔ویب ڈیسک










