سرینگر/۱۳نومبر
جموں کشمیر پولیس نے انٹرپول سے قاضی گنڈ کے رہائشی ڈاکٹر مظفر کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کی باضابطہ درخواست دی ہے ۔
یہ کارروائی حال ہی میں بے نقاب ہوئے بین ریاستی’وائٹ کالر‘دہشت گرد ماڈیول سے متعلق ہے ، جو دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہوئے دھماکے سے منسلک پایا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر مظفر، ڈاکٹر عدیل کے بھائی ہیں، جو ان آٹھ گرفتار افراد میں شامل ہیں جن میں تین ڈاکٹر بھی تھے ۔ یہ تمام افراد اُس دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ بتائے جا رہے ہیں جس کا انکشاف فرید آباد، دہلی، ہریانہ اور جموں و کشمیر میں ایک طویل مشترکہ آپریشن کے دوران ہوا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ڈاکٹر مظفر۲۰۲۱میں ترکی گئے تھے ، جہاں وہ ڈاکٹر مزمل گنائی اور ڈاکٹر عمر نبی کے ساتھ۲۱روزہ دورے پر موجود تھے ۔ عمر نبی وہی شخص ہے جو مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد سے بھری کار چلا رہا تھا، جس میں دھماکہ ہونے سے۱۳؍افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔
پولیس نے بتایا کہ جب ڈاکٹر مظفر کا نام تحقیقات میں سامنے آیا تو فوری طور پر اس کی تلاش شروع کی گئی، تاہم معلوم ہوا کہ وہ اگست۲۰۲۵میں بھارت چھوڑ کر دبئی چلے گئے اور فی الحال افغانستان میں روپوش ہیں۔
اس پیش رفت کے بعد جموں و کشمیر پولیس نے انٹرپول کو مطلع کرتے ہوئے ان کے خلاف ریڈ کارنر نوٹس جاری کرنے کی باضابطہ کارروائی شروع کر دی ہے تاکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر گرفتار کر کے بھارت لایا جا سکے ۔
قابلِ ذکر ہے کہ لال قلعہ کے قریب ہوئے خوفناک دھماکے کے بعد پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے جیشِ محمد اور انصار غزوۃ الھند سے وابستہ ایک وسیع نیٹ ورک کو بے نقاب کیا تھا، جس کے تار کشمیر، ہریانہ، یوپی اور بیرون ملک تک پھیلے ہوئے ہیں۔










