سرینگر/۱۲نومبر
پولیس نے جموں کشمیر بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر میاں عبدالقیوم کے دو منزلہ رہائشی مکان اور اس سے ملحقہ زمین کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت ضبط کرلیا ہے۔
پولیس ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق یہ کارروائی پولیس اسٹیشن شہید گنج میں درج ایف آئی آر نمبر۱۵۷/۲۰۰۹ سے متعلق ہے‘ جو تعزیرات ہند کی متعلقہ دفعات اور یو اے پی اے کی دفعات ۱۳‘۳۸؍اور۳۹ کے تحت درج کی گئی تھی۔
یہ ایف آئی آر۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ کو سرینگر کے ہوٹل جہانگیر میں منعقد ایک سیمینار سے متعلق ہے، جو بانی پاکستان محمد علی جناح کی برسی کے موقع پر منعقد ہوا تھا۔ اس تقریب کا اہتمام مبینہ طور پر مسلم لیگ کے فیروز احمد خان نے کیا تھا، جس میں آسیہ اندرابی، شبیر احمد نجار اور میاں عبدالقیوم سمیت کئی شرکاء نے تقاریر کی تھیں۔
پولیس کے مطابق اس سیمینار میں کی جانے والی تقاریر بھارت مخالف نوعیت کی تھیں، جن میں جموں و کشمیر کی علیحدگی اور اسلامی قانون کے نفاذ کی وکالت کی گئی۔ تحقیقات کے دوران گواہوں کے بیانات سے ثابت ہوا کہ شرکاء نے اشتعال انگیز نعرے لگائے اور عوام کو بھارت کی سالمیت کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔
عدالتی احکامات کے تحت برزلہ، سرینگر میں میاں عبدالقیوم کی رہائش گاہ پر کی گئی تلاشی کے دوران پولیس کو قابلِ اعتراض مواد برآمد ہوا۔ ضبط شدہ اشیاء میں کالعدم تنظیم حزب المجاہدین کا خالی لیٹر ہیڈ، تنظیم کی انگریزی اور اردو مہر کے نمونے، ممنوعہ لٹریچر، اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کا ایک مبینہ خط شامل ہے جو اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے نام لکھا گیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق ملزم نے اپنے دو منزلہ مکان اور اس سے ملحقہ۲ کنال، ایک مرلہ اور۹۰ مربع فٹ اراضی کو دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق مواد چھپانے کے لیے استعمال کیا۔
پولیس کے مطابق مذکورہ جائیداد میاں عبدالقیوم کے نام میوٹیشن نمبر ۳۳۸ کے تحت درج ہے اور یہ یو اے پی اے کی دفعہ ۲(جی)کے تحت ’’دہشت گردی کی آمدنی‘‘کی تعریف میں آتی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ یو اے پی اے کی دفعہ ۲۵ کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے برزلہ کے بلبلی باغ علاقے میں واقع مذکورہ جائیداد کے ضبطی احکامات جاری کئے۔ویب ڈیسک










