سرینگر/۱۰ نومبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ وہ بڈگام اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں نیشنل کانفرنس کی کامیابی کے لیے پْرامید ہیں۔
یہ ضمنی انتخاب منگل کو منعقد ہو رہا ہے کیونکہ عمر عبداللہ نے گزشتہ سال بڈگام کی نشست خالی کر دی تھی اور ۲۰۲۴ کے اسمبلی انتخابات میں گاندربل اور بڈگام دونوں حلقوں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد گاندربل کی نشست برقرار رکھی تھی۔
پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا ’’کون ہے جو شکست کی امید کے ساتھ انتخاب میں حصہ لیتا ہے؟ ہم جیت کی اْمید رکھتے ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا، ’’ہم نے سخت محنت کی ہے، اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے۔ اگر صحیح علاقوں سے بڑی تعداد میں ووٹ ملے تو ہمیں اچھی کامیابی حاصل ہوگی۔ دیکھتے ہیں کیا نتیجہ آتا ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں، جس میں دو کشمیری ڈاکٹروں سے اسلحہ اور بارودی مواد کی بڑی مقدار برآمدگی کے بارے میں پوچھا گیا، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں‘‘۔
اس دوران ضلع مجسٹریٹ بڈگام ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ کا کہنا ہے کہ کل یعنی منگل کو ہونے والے بڈگام حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخابات کیلئے تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دی گئی ہے اور شفاف اور ہموار پولنگ کو یقینی بنایا جائے گا۔
ڈاکٹربٹ نے کہا کہ ایک لاکھ۲۶ہزار۲۵رائے دہندگان کیلئے کل۱۷۳پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں جن میں کچھ خصوصی پولنگ مراکز بھی شامل ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے ان باتوں کا اظہار پیر کو ضمنی انتخابات کے لئے کئے گئے انتظامات کا جائزہ لینے کے دوران میڈیا کے ساتھ بات کرنے کے دوران کیا۔
ڈاکٹربٹ نے کہا’’ساری تیاریاں کی گئی ہیں، ووٹروں سے متعلق، پولنگ مراکز سے متعلق، کمیونکیشن، سیکورٹی، ٹرانسپورٹیشن سب تیاریاں مکمل ہیں‘‘۔
ضلع ترقیاتی کمشنر کا کہنا تھا’’کل ایک لاکھ ۲۶ ہزار ۲۵رائے دہندگان ہیں جن کیلئے۱۷۳پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں جہاں ووٹروں کے لئے بھی اور پولنگ عملے کیلئے تمام تر انتظامات اور سہولیات کو حتمی شکل دی گئی ہے ‘‘۔
ڈاکٹربٹ نے کہا کہ پولنگ کا عمل صبح۷بجے شروع ہوگا اور شام۶بجے اختتام پذیر ہوگا۔
ڈی سی بڈگام نے کہا کہ اگر کسی ووٹر کے پاس ووٹر سلپ نہیں ہے تو وہ اس کے باوجود بھی ووٹ ڈال سکتا ہے ۔انہوں نے کہا’’الیکشن کمیشن آف انڈیا نے۱۳؍ایسے شناختی کارڈ رکھے ہیں جن کا استعمال کرکے ووٹ ڈالا جا سکتا ہے جن میں الیکشن کارڈ، آدھار کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس وغیر شامل ہے ‘‘۔
ان کا کہنا ہے کہ تمام ۱۷۳پولنگ مراکز اہم اور حساس ہیں جہاں ویب کاسٹنگ کی سہولیت رکھی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولنگ مراکز میں جہاں ووٹروں کے لئے وہیں پولنگ عملے کے لئے بھی تمام تر انتظامات اور سہولیات کو حتمی شکل دی گئی ہے ۔
ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے شفافیت بڑھ جاتی ہے اور شفاف اور ہموار پولنگ کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے لوگوں سے اس الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی۔
’ندائے مشرق ویب ڈیسک ‘










