سرینگر/۴نومبر
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے جموں و کشمیر کے عوام سے جو وعدے کیے تھے ، وہ تاحال پورے نہیں ہوئے ہیں۔
قرہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ واپس نہیں دیا جاتا، تب تک کانگریس پارٹی کسی بھی صورت کابینہ میں شمولیت اختیار نہیں کرے گی۔
کانگریسی لیڈر نے یہ بات منگل کے روز سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہی۔
اُن کا کہنا تھا کہ۵؍اگست۲۰۱۹کے فیصلوں کے بعد مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کے عوام سے بہت سے وعدے کیے تھے ، مگر چھ سال گزر جانے کے باوجود اُن میں سے کوئی بھی وعدہ عملی جامہ نہیں پہن سکا۔
قرہ نے کہا’’وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے عوام سے ریاستی درجہ کی بحالی، روزگار کے مواقع اور عوامی نمائندگی کو مضبوط بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج بھی جموں و کشمیر کے لوگ سیاسی غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں‘‘۔
کانگریس صدر نے مزید کہا کہ پارٹی کی پالیسی بالکل واضح ہے ، جب تک ریاستی درجہ بحال نہیں ہوتا، ہم اقتدار کا حصہ نہیں بنیں گے ۔
ریزرویشن سے متعلق ایک سوال کے جواب میں طارق حمید قرہ نے کہا کہ ریزرویشن کا فیصلہ آبادی کے تناسب سے ہونا چاہئے ۔ اُنہوں نے کہا’’ہم سمجھتے ہیں کہ جس طبقے کی آبادی زیادہ ہے ، اُسی کے مطابق اُسے نمائندگی ملنی چاہیے ‘‘۔
قرہ نے اس ضمن میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’’راہل جی نے بھی کہا ہے کہ آبادی کے حساب سے ہی لوگوں کو حق دیا جانا چاہئے ، تاکہ مساوات اور انصاف کا اصول برقرار رہے ‘‘۔
کانگریسی نے زور دے کر کہا کہ کانگریس عوامی مسائل پر سیاست نہیں کرتی بلکہ اُن کے حل کے لیے پرعزم ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ پارٹی کی ترجیح جمہوریت کی بحالی، ریاستی درجہ کی واپسی، اور عوامی اداروں کو بااختیار بنانا ہے (یو این آئی)-










