سرینگر/یکم نومبر
لیفٹیننٹ گورنر ‘منوج سنہا نے سرینگر میں ڈاکٹر راہی معصوم رضا پر منعقدہ ایک بین الاقوامی سیمینار میں کلیدی خطاب کیا۔
اپنے خطاب ‘جس میں بھارت اور بیرونِ ملک کے معروف ادبی شخصیات شریک تھیں، لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ڈاکٹر راہی معصوم رضا بلاشبہ اپنے وقت کے عظیم ترین ادیبوں میں سے ایک تھے اور انہوں نے ہندوستان کی ادبی تاریخ میں اپنے لیے ایک معتبر اور مقدس مقام حاصل کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’ڈاکٹر راہی معصوم رضا اس ملک کی روحانی اور ثقافتی روایات میں گہرے طور پر پیوست تھے اور ہمیشہ اْس مشترکہ انسانیت پر یقین رکھتے تھے جو انفرادی اختلافات سے بالاتر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ باہمی ربط، شمولیت، پْرامن بقائے باہمی اور مختلف مذاہب کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا‘‘۔
سنہا نے کہا کہ ڈاکٹر راہی معصوم رضا کا مادی اور غیر مادی ورثہ قیمتی اور انمول ہے اور نوجوان نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا ’’میرا یقین ہے کہ ڈاکٹر راہی معصوم رضا کی یہ عظیم وراثت ہماری سوسائٹی کو ترقی و خوشحالی کی جانب رہنمائی کرے گی۔ یہ قیمتی خیالات، نظریات، اور ایک مشترکہ شناخت و سماجی ہم آہنگی کو فروغ دے کر ہمیں اجتماعی طور پر آگے بڑھنے کا راستہ دکھائے گی۔‘‘
ایل جی نے معاشرے اور قوم کے سامنے موجود کئی اہم ذمہ داریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک مضبوط قومی شناخت اور ہمارے انمول ورثے کی دانش کے احیاء کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہم ہمہ گیر ترقی حاصل کر سکیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ہماری ثقافتی وراثت ایک مشترکہ شناخت کو فروغ دے سکتی ہے، مختلف گروہوں کے درمیان لچک اور یکجہتی پیدا کر سکتی ہے جو معاشی ترقی کو آگے بڑھاتی ہے۔ ہمیں ماضی سے سیکھنا چاہیے تاکہ خود اعتمادی پیدا ہو، اور تاریخ کے اسباق، دانش اور نظریات ہمیں ترقی اور اختراع کے نئے مواقع کی طرف رہنمائی کریں۔‘‘
سنہا نے کہا کہ جامع ترقی کے لیے ہمیں روایت کو ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑنا ہوگا اور ترقیاتی سفر میں جدید پیش رفت پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی تاکہ سب کیلئے مساوی مواقع کو یقینی بنایا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مزید کہا ’’ہماری واحد منزل امن اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے تاکہ وکست بھارت کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔
(ڈی آئی پی آر)‘‘










