سرینگر/۳۱؍اکتوبر
جموں کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا کے ریاستی درجہ سے متعلق بیان پر لفظی جنگ میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف اس وقت کوئی ردعمل دیں گے جب وہ خود ایل جی کا بیان پڑھ لیں گے۔
اس سے قبل یہاں ایس کے آئی سی سی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر کو ریاستی درجہ نہ ملنے کو ’’کم کارکردگی‘‘ کا بہانہ نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ منتخب حکومت کے پاس تمام اختیارات موجود ہیں۔
جب صحافیوں نے عمر عبداللہ سے ایل جی کے اس بیان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے ابھی منوج سنہا کا بیان نہیں پڑھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’سب سے پہلے میں یہ دیکھنا چاہوں گا کہ انہوں نے کن الفاظ کا استعمال کیا ہے، کیونکہ اگر ان کے بیان اور آپ کے کہنے میں فرق ہوا تو پھر میرا غلط بولنا مناسب نہیں ہوگا۔‘‘
البتہ، انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر ایل جی نے واقعی وہی کہا ہے جو میڈیا والے کہہ رہے ہیں، تو میں اس کا جواب مناسب وقت پر دوں گا۔‘‘
عمر عبداللہ یہاں کشمیر میراتھن ایکسپو کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہر بڑے ایونٹ کے ساتھ منتظمین کی کوشش ہوتی ہے کہ کھلاڑیوں کو بہترین تجربہ فراہم کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا ’’جب میں دہلی میں ہاف میراتھن میں شریک ہوا تھا تو وہاں بھی اسی طرح کا ایک ایونٹ منعقد کیا گیا تھا، اور اس میں شامل لوگوں کو وہ تقریب بہت پسند آئی تھی۔ یہ اچھی بات ہے کہ دوڑ کے ساتھ ایک ایکسپو بھی منعقد کیا جا رہا ہے‘‘۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ ایکسپو جموں و کشمیر کی دستکاریوں اور سیاحتی امکانات کو دیگر ریاستوں کے لوگوں کے سامنے پیش کرے گا، اور امید ظاہر کی کہ اس سے خطے میں سیاحت کے فروغ میں مدد ملے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’










