سرینگر/۳۱؍اکتوبر
وزیر تعلیم سکینہ یتو نے اسمبلی میں بتایا ہے کہ محکمہ نے لیکچررز سمیت تمام تدریسی عملے کی منتقلی پالیسی پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے اور طویل مدت سے ایک ہی جگہ پر تعینات اساتذہ کی منتقلی کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔
اسمبلی میں رکن اسمبلی ایڈوکیٹ وجے کمار کے سوال کے جواب میں محکمہ نے کہا کہ محکمہ نے۲۴؍اپریل ۲۰۲۳کو نوٹیفکیشن نمبر۱۰۳کے تحت نئی منتقلی پالیسی نافذ کی ہے ، جس کے مطابق تمام تبادلے آن لائن موڈ کے ذریعے کیے جاتے ہیں، سوائے اُن صورتوں کے جہاں فوری انتظامی ضرورت درپیش ہو۔
پالیسی کے مطابق جموں و کشمیر کے اسکولوں کو پانچ زونز میں تقسیم کیا گیا ہے ،انتظامی عہدوں جیسے چیف ایجوکیشن آفیسرز، پرنسپلز، ہیڈ ماسٹرز اور زڈ ای اوز کے لیے تعیناتی مدت دو سال (زیادہ سے زیادہ تین سال) رکھی گئی ہے ۔
حکومت نے واضح کیا کہ تقریباً۳۰۰لیکچررز، جو جموں، کٹھوعہ اور سانبہ اضلاع سے تعلق رکھتے ہیں اور فی الوقت دیگر’ہارڈ زون‘علاقوں میں تعینات ہیں، اُن کی منتقلی کے لیے تجاویز زیر غور ہیں۔
جواب میں کہا گیا کہ نوٹیفکیشن نمبر۰۸۲کے تحت ۱۸جولائی۲۰۲۴کو تمام کیڈرز کے اساتذہ سے آن لائن درخواستیں طلب کی گئی تھیں، اور اب ان درخواستوں کی بنیاد پر منتقلی کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
جموں و کشمیر: اسپیکر نے ایوان میں رکن اسمبلی کے ویڈیو پر نیوز پورٹل کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی
سرینگر/۳۱؍اکتوبر
جموں کشمیر اسمبلی کے اسپیکر عبد الرحیم راتھر نے جمعہ کے روز ایوان کو یقین دلایا کہ اس نیوز پورٹل کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی جس نے ایک ویڈیو اپ لوڈ کیا جس میں مبینہ طور پر ایک رکن اسمبلی کو ایوان کی کارروائی کے دوران سوشل میڈیا کے ساتھ مصروف دیکھا گیا۔
جمعہ کی صبح جب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو رکن اسمبلی کرناہ جاوید مرچل، جو حکمران جماعت نیشنل کانفرنس سے تعلق رکھتے ہیں، نے اس نیوز پورٹل کے خلاف ایوان میں احتجاج کیا جس نے ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی کہ وہ اجلاس کے دوران اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ کے ساتھ مصروف تھے ۔
رکن اسمبلی نے وضاحت کی کہ وہ سرکاری کاموں کو چیک کر رہے تھے جو اراکین کو آن لائن فراہم کئے جاتے ہیں اور وہ سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کر رہے تھے ۔ اس دوران کئی ارکان اسمبلی ان کی حمایت میں کھڑے ہوئے ۔
رکن اسمبلی نذیر گریزی نے جاوید مرچل کی حمایت میں کہا کہ اس نیوز پورٹل کے خلاف استحقاق کی تحریک پیش کی جائے گی کیونکہ اس نے ایک رکن اسمبلی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔
انہوں نے کہا’’رکن اسمبلی اپنے فون پر سرکاری کارروائی دیکھ رہے تھے جب کسی نے ان کی تصویر کھینچ لی، اس نیوز چینل پر پابندی لگنی چاہئے اور ہم استحقاق کی تحریک لائیں گے ‘‘۔
ان کا مزید کہنا تھا’’موصوف رکن اسمبلی کل رات سو نہیں سکے ،اُن کے حلقے کے لوگ ان پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ اسمبلی میں عوامی مسائل کے بجائے فیس بک دیکھ رہے تھے ‘‘۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ایوان کو یقین دلایا کہ خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ جمعہ کو جموں وکشمیر اسمبلی کے خزاں اجلاس کا آخری دن تھا۔










