محکمہ تعلیم کے برطرف شدہ ملازمین لشکرِ طیبہ کی سرگرمیوں کی حمایت میں فعال طور پر ملوث تھے
سرینگر/۳۰؍اکتوبر
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کے روز دہشت گردوں سے مبینہ روابط کے الزام میں دو سرکاری ملازمین کو برطرف کر دیا۔
اب تک گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ایل جی کی قیادت والی انتظامیہ نے آئین کے آرٹیکل۳۱۱کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً ۸۰سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی سنہا کی’دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس‘ پالیسی اور جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے پورے نظام کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔
ایل جی نے غلام حسین اور مجید اقبال ڈار، دونوں اساتذہ، کی خدمات ختم کر دیں جن پر الزام ہے کہ وہ لشکرِ طیبہ کی سرگرمیوں کی حمایت میں فعال طور پر ملوث تھے، حکام نے بتایا۔
غلام حسین کو ۲۰۰۴ میں رہبرِ تعلیم استاد کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۲۰۰۹ میں باقاعدہ حیثیت ملی اور وہ گورنمنٹ پرائمری اسکول، کلوا، مہور، ریاسی میں تعینات تھے۔
ذرائع کے مطابق غلام حسین خفیہ طور پر لشکرِ طیبہ کے لیے کام کر رہا تھا تاکہ دہشت گرد سرگرمیوں کو انجام دے سکے۔ وہ ایک اوور گراؤنڈ ورکرکے طور پر ریاسی اور اس کے نواحی علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے لیے مامور تھا اور ۲۰۲۳ میں گرفتار ہوا۔
تحقیقات اور خفیہ ایجنسیوں سے حاصل شواہد کے مطابق حسین دہشت گردوں محمد قاسم اور غلام مصطفیٰ سے خفیہ پیغام رسانی کے ایپس کے ذریعے رابطے میں تھا۔
ذرائع نے بتایا’’یہ دونوں اس کے ہینڈلر تھے، اور غلام حسین اْن کی ہدایت پر دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اسے ایک مقامی رابطے کے ذریعے دہشت گردی کے فنڈز موصول ہوتے تھے، جنہیں وہ معروف دہشت گردوں کے خاندانوں تک پہنچاتا تھا تاکہ دہشت گردی کو سہارا دیا جا سکے۔ وہ دہشت گردوں کی بھرتی اور لاجسٹکس کے لیے بھی پیسے تقسیم کرتا تھا‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ وہ مختلف ذرائع سے مسلسل مالی امداد اور پارسل وصول کر رہا تھا۔
حکام کے مطابق ’’حسین نے یہ سب محض مالی لالچ میں نہیں بلکہ دہشت گردی سے ہمدردی اور اْس کے نظریے پر ایمان کے باعث کیا۔ وہ ریاسی میں نظام کے اندر ایک او جی ڈبلیو کے طور پر داخل کیا گیا تاکہ نوجوانوں کو بنیاد پرست بنائے اور انہیں دہشت گردی کے دھارے میں شامل کرے‘‘۔
ذرائع نے بتایاکہ غلام حسین نے نہ صرف قوم بلکہ محکمہ تعلیم سے بھی غداری کی کیونکہ اْس نے دہشت گرد تنظیم لشکرِ طیبہ کا معاون اور او جی ڈبلیو بننے کا راستہ اختیار کیا۔’’تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ اْس کے دہشت گردی کے نظام سے روابط او جی ڈبلیوز کے ایک ایسے نیٹ ورک کے ذریعے ہیں جو لشکرِ طیبہ کے اشارے پر کام کر رہے ہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسے خطرناک دہشت گرد معاون کا اسکول میں استاد کے طور پر کام کرنا ننھے اور متاثر ہونے والے ذہنوں کے لیے بڑا خطرہ ہے اور یہ درجنوں بچوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔
دوسرے ملازم مجید اقبال ڈار کو۲۰۰۹ میں محکمہ تعلیم میں لیبارٹری اسسٹنٹ کے طور پر اْس وقت تعینات کیا گیا تھا جب اْس کے والد کا انتقال ہوا۔ اسے بعد میں ۲۰۱۹ میں استاد کے طور پر ترقی دی گئی۔
ذرائع کے مطابق ڈار لشکرِ طیبہ کے او جی ڈبلیو کے طور پر کام کر رہا تھا اور راجوری اور اس کے اطراف کے علاقوں میں نوجوانوں کو بنیاد پرست بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا تھا۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈار منشیات کے ذریعے دہشت گردی (نارکو ٹیرر) میں بھی ملوث تھا اور لشکرِ طیبہ کے دہشت گرد محمد جبار سے قریبی روابط رکھتا تھا۔
ڈار، جو لشکرِ طیبہ کا ایک قابلِ اعتماد ساتھی سمجھا جاتا تھا، منشیات کی رقم دہشت گردی کی مالی اعانت اور نوجوانوں کی برین واشنگ میں استعمال کر رہا تھا۔ اس کا دہشت گردی سے تعلق جنوری ۲۰۲۳ میں اْس وقت بے نقاب ہوا جب پولیس نے راجوری میں جموں و کشمیر بینک کے قریب نصب ایک آئی ای ڈی برآمد کی۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے تین افراد کو گرفتار کیا، جن میں ڈار بھی شامل تھا۔ بعد ازاں یہ انکشاف ہوا کہ اس استاد نے لشکرِ طیبہ کے دہشت گردوں جبار اور زہیب شہزاد کے ساتھ مل کر پاکستان میں موجود اپنے ہینڈلر کے حکم پر آئی ای ڈی نصب کی تھی، اور انہیں رقم بھی ایک رابطے کے ذریعے موصول ہوئی تھی۔
ذرائع کے مطابق حراست کے بعد بھی ڈار نے جیل میں شدت پسندانہ رجحانات برقرار رکھے اور دہشت گردی کے نظریے سے گہری وابستگی ظاہر کی۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع نے بتایا کہ ’’ڈار ایک طویل عرصے سے یہ سب کر رہا تھا، وہ بھی سرکاری خزانے کے خرچ پر، اور کئی سال تک قانون سے بچتا رہا۔ یہ عوامی مفاد کے خلاف دوہرا جرم ہے۔ اْس کا نقصان بہت زیادہ ہے کیونکہ وہ محکمہ تعلیم جیسے حساس ادارے کے اندر سے کام کر رہا تھا‘‘۔
حال ہی میں لیفٹیننٹ گورنر سنہا نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی ہے اور پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کر دیا جائے۔
انہوں نے کہا تھا’’دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ کائنیٹک اور نان کائنیٹک آپریشنز جاری رہنے چاہئیں۔ ہمیں رفتار برقرار رکھنی ہے اور دہشت گردی اور اْس کے پورے نظام کے خلاف سخت کارروائی کرنی ہے‘‘۔(ندائے مشرق خبر)









