سرینگر/۳۰؍اکتوبر
ہندوستان نے کہا ہے کہ وہ افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے مکمل طور پر پْرعزم ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان‘رندھیر جیسوال نے آج دہلی میں ہفتہ وار بریفنگ میں پاک افغان کشیدگی پر کہا’’
میں وہی بات دہراتا ہوں جو میں نے اپنی گزشتہ بریفنگ میں کہی تھی۔ پاکستان اس بات پر برہم ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر خودمختاری کا حق استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان بظاہر یہ سمجھتا ہے کہ اسے سرحد پار دہشت گردی کرنے کا بلا روک ٹوک حق حاصل ہے، جو اس کے پڑوسیوں کے لیے کسی طور قابلِ قبول نہیں۔بھارت افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے مکمل طور پر پْرعزم ہے‘‘۔
جیسوال نے کہا کہ حال ہی میں جاری ہونے والے بھارت،افغانستان مشترکہ اعلامیے میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ بھارت افغانستان کی پائیدار آبی انتظام کاری میں تعاون کے لیے تیار ہے، جس میں پن بجلی منصوبے بھی شامل ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس ضمن میں ماضی میں بھی اشتراکِ عمل رہا ہے، خاص طور پر ہرات صوبے میں سلمہ ڈیم کی تعمیر اس کی نمایاں مثال ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ’’ہم روسی تیل کمپنیوں پر حالیہ امریکی پابندیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہمارے فیصلے قدرتی طور پر بدلتے ہوئے عالمی منڈی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہیں‘‘۔
ان کاکہنا تھا کہ توانائی کے حصول کے بڑے سوال پر ہمارا مؤقف واضح ہے ’’ ہم اپنے۴ء۱؍ ارب عوام کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متنوع اور سستی توانائی کے ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں‘‘۔
ترجمان نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مسلسل رابطے میں ہیں۔ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے میں آپ کو وزارتِ تجارت سے رجوع کرنے کا مشورہ دوں گا۔ویب ڈیسک










