اقوام متحدہ، 24 اکتوبر (یو این آئی) اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں 3 کروڑ افراد فوری امداد کے متلاشی ہیں، بیان میں فریقین سے ملک میں فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ گزشتہ 16 ماہ سے الفاشر شہر میں کم از کم ایک لاکھ تیس ہزار بچے محصور ہیں جبکہ کردفان اور دارفور کی ریاستوں میں حالات "انتہائی خراب” ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تشدد سوڈان کے مختلف علاقوں میں نقل مکانی کی نئی لہر کا باعث بن رہا ہے ۔ ادارے نے وضاحت کی کہ گزشتہ ہفتے شمالی دارفور میں تین ہزار سے زیادہ لوگ اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے ۔
اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق سوڈان کے عام شہری مسلسل تشدد کا سب سے بڑا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ دفتر نے فریقین سے فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور تمام متاثرین تک امداد کی رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
بین الاقوامی ادارہ برائے ہجرت کے مطابق یہ نقل مکانی 15 سے 19 اکتوبر کے دوران ہوئی، جب شہر اور اس کے نواح میں سوڈانی فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی تیز ہو گئی۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اپنے گھروں سے بے دخل ہونے والے افراد شمالی دارفور کے علاقوں الفاشر اور طویلہ کے مختلف مقامات پر پناہ لے رہے ہیں۔ مزید یہ کہ صورت حال بدستور کشیدہ اور غیر یقینی ہے ، جو انسانی بحران کے مزید بگڑنے کا خطرہ ظاہر کرتی ہے ۔
واضح رہے کہ سوڈان میں صورت حال اپریل 2023 میں اس وقت خراب ہوئی جب سوڈانی فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے کمانڈر محمد حمدان دقلو (حمیدتی) کے درمیان سیاسی اختلافات کھل کر سامنے آئے ۔ لڑائی پہلے دارالحکومت خرطوم میں شروع ہوئی، پھر ملک کے دیگر حصوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔










