واشنگٹن، 7 ستمبر (یو این آئی) امریکہ کے سابق وزیر دفاع لیون پنیٹا نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف واشنگٹن کی فوجی مہم مغربی ایشیا میں عراق اور افغانستان کی طرح ایک اور ناکام اور طویل جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، کیونکہ تنازع تعطل کا شکار ہے اور اس کے خاتمے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
پنیٹا نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تنازع کو ختم کرنے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ پینٹاگون اور اس کے فوجی کمانڈ ڈھانچے میں جاری افراتفری واشنگٹن کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اس کی فوجی طاقت کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت پر سوالات اٹھا رہی ہے۔
برطانوی اخبار ڈیلی گارجین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پنیٹا نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چھ ماہ سے زیادہ عرصہ قبل شروع کی گئی جنگ خطے میں ایک اور ”لامتناہی جنگ“ بننے کا خطرہ ہے۔ پنیٹا نے کہا، ”یہ کوئی راز نہیں کہ امریکہ اور ایران ایک خوفناک تعطل میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے واقعی بہت کم راستے دستیاب ہیں۔“
انہوں نے اشارہ دیا کہ یہ تنازع مغربی ایشیا میں ”عراق اور افغانستان کی طرح ایک اور ناکام جنگ“ بننے کی راہ پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ”میرے خیال میں امکان یہی ہے کہ یہ جنگ مزید چھ ماہ تک جاری رہے گی اور اس دوران اس کا کوئی حل نہیں نکلے گا۔“
پنیٹا نے صدر براک اوباما کے دور میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دی تھیں۔ ان کا یہ بیان واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ کی فوجی مہم جاری رکھنے کی صلاحیت کے حوالے سے بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجیوں کو ایسے وقت جنگ میں بھیجا جا رہا ہے جب پینٹاگون اور فوجی کمانڈ کے ڈھانچے میں ”زبردست افراتفری“ ہے۔
پنیٹا نے کہا، ”ہم ایسے وقت جنگ میں جا رہے ہیں جب پینٹاگون اور کمانڈ کے ڈھانچے میں زبردست افراتفری ہے، جس سے واقعی یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ کوئی ذمہ دار نہیں ہے۔“ انہوں نے خبردار کیا کہ مخالفین امریکی فوجی صلاحیتوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”اور میں صرف یہ سمجھتا ہوں کہ چاہے وہ ایران ہو یا ہمارے دیگر مخالفین، وہ اب امریکہ کو دیکھ رہے ہیں اور اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہماری فوجی صلاحیت کو مؤثر طور پر استعمال کرنے کی اہلیت میں کمزوری محسوس کر رہے ہیں۔“





