زیلنسکی نے آنے والے موسم سرما کے دوران یوکرین کو درپیش چیلنجز، بالخصوص فضائی دفاع اور توانائی کی ضروریات کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا، ”اگر جنگ موسم سرما تک جاری رہتی ہے تو ہمیں موسم سرما کے پیکیج سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔“ انہوں نے کہا کہ یوکرین فضائی دفاع کے لیے مدد، توانائی کے شعبے میں معاونت اور امریکہ سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی خاطر خواہ مقدار حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
زیلنسکی نے کہا، ”ہم فضائی دفاع اور توانائی کے شعبے کے لیے حمایت کے ساتھ ساتھ امریکی ایل این جی کی خاطر خواہ مقدار اور اسے استعمال کرنے کی صلاحیت پر انحصار کر رہے ہیں۔“ زیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات صرف فوجی سلامتی تک محدود نہیں رہے بلکہ ان میں یوکرین کی طویل مدتی اقتصادی بحالی اور تعمیر نو بھی شامل رہی۔
انہوں نے کہا، ”ہم صرف سکیورٹی ضمانتوں ہی نہیں بلکہ یوکرین کے لیے اقتصادی ضمانتوں پر بھی بات کر رہے ہیں، تاکہ ملک بحال اور دوبارہ تعمیر ہو سکے۔“ انہوں نے زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی یوکرین کی مسلح افواج مضبوط رہنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا، ”ہماری فوج مضبوط ہونی چاہیے اور ہمارے لیے یہ ایک اہم سکیورٹی ضمانت ہے۔“
زیلنسکی نے کہا کہ کسی بھی ضمانت کو اتنا قابلِ اعتبار ہونا چاہیے کہ مستقبل میں روسی جارحیت کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا، ”ضمانتیں مضبوط اور واضح ہونی چاہئیں۔ ہمیں مستقبل کے کسی بھی چیلنج سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔“ یوکرینی صدر نے کہا کہ تینوں فریقوں نے یوکرین کے مستقبل اور اس کے اقتصادی خوشحالی کے منصوبے پر بھی بات کی، جبکہ یورپی حکام بھی مذاکرات میں شامل ہوئے۔
انہوں نے کہا، ”یوکرین، یورپ اور امریکہ مستقبل قریب میں ملاقات کریں گے۔“ سفارتی کوششوں میں نئی پیش رفت کے باوجود ایک اہم ترین مسئلہ، یعنی علاقائی تنازع، بدستور مذاکرات کی میز پر موجود ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ علاقائی مسئلے کو مذاکرات کی ورکنگ سطح پر آسانی سے حل نہیں کیا جا سکتا اور بالآخر اس کے لیے تینوں ممالک کے رہنماؤں کی سطح پر فیصلے کرنا ہوں گے۔





