|
|||
یروشلم، 22 اکتوبر (یواین آئی) امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے منگل کو کہا کہ اگر حماس نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا تو اسے "ختم” کر دیا جائے گا۔
غزہ کے شمال میں واقع کریات گاٹ میں ایک پریس کانفرنس میں مسٹر وینس نے کہا کہ اگر حماس گروپ تعاون کرتا ہے تو اس کے جنگجوؤں کو بخشا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ تعاون نہیں کرتا ہے تو اسے ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم ایسی جگہ پہنچ جائیں گے جہاں یہ امن قائم رہے گا۔
نائب صدر نے غزہ میں جنگ بندی کی پیش رفت کو توقع سے بہتر قرار دیا اور تباہ شدہ علاقے کی تعمیر نو میں درپیش چیلنجوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی، "آئیے سکیورٹی، تعمیر نو اور لوگوں کو خوراک اور ادویات کی فراہمی پر توجہ دیں۔”
قابل ذکر ہے کہ خطے کے لیے طویل المدتی منصوبے کے بارے میں سوالات ابھی باقی ہیں کہ غزہ میں بین الاقوامی سکیورٹی فورسز کب اور کیسے تعینات کی جائیں گی اور جنگ کے بعد اس علاقے پر حکومت کون کرے گا۔ انہوں نے جواب دیا، "ایک بار جب ہم اس مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں غزہ کے لوگ اور ہمارے اسرائیلی دوست، دونوں کو کسی حد تک تحفظ حاصل ہوسکے ، تب ہم غزہ کے طویل مدتی حکومت کی فکر کریں گے ۔”
نائب صدر نے یرغمالیوں اور لاشوں کو سونپے جانے میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا اور صبر کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، "ان میں کچھ یرغمالی ہزاروں پاؤنڈ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ کچھ یرغمالیوں کے بارے میں تو کسی کو معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مسٹر وینس منگل کو اسرائیل پہنچے جہاں ان کی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت مختلف اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات متوقع ہے ۔
غزہ کے شمال میں واقع کریات گاٹ میں ایک پریس کانفرنس میں مسٹر وینس نے کہا کہ اگر حماس گروپ تعاون کرتا ہے تو اس کے جنگجوؤں کو بخشا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ تعاون نہیں کرتا ہے تو اسے ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ہم ایسی جگہ پہنچ جائیں گے جہاں یہ امن قائم رہے گا۔
نائب صدر نے غزہ میں جنگ بندی کی پیش رفت کو توقع سے بہتر قرار دیا اور تباہ شدہ علاقے کی تعمیر نو میں درپیش چیلنجوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی، "آئیے سکیورٹی، تعمیر نو اور لوگوں کو خوراک اور ادویات کی فراہمی پر توجہ دیں۔”
قابل ذکر ہے کہ خطے کے لیے طویل المدتی منصوبے کے بارے میں سوالات ابھی باقی ہیں کہ غزہ میں بین الاقوامی سکیورٹی فورسز کب اور کیسے تعینات کی جائیں گی اور جنگ کے بعد اس علاقے پر حکومت کون کرے گا۔ انہوں نے جواب دیا، "ایک بار جب ہم اس مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں غزہ کے لوگ اور ہمارے اسرائیلی دوست، دونوں کو کسی حد تک تحفظ حاصل ہوسکے ، تب ہم غزہ کے طویل مدتی حکومت کی فکر کریں گے ۔”
نائب صدر نے یرغمالیوں اور لاشوں کو سونپے جانے میں تاخیر پر مایوسی کا اظہار کیا اور صبر کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، "ان میں کچھ یرغمالی ہزاروں پاؤنڈ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ کچھ یرغمالیوں کے بارے میں تو کسی کو معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مسٹر وینس منگل کو اسرائیل پہنچے جہاں ان کی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت مختلف اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات متوقع ہے ۔











