سرینگر/۲۲؍ اکتوبر
جموںکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر‘ طارق حمید قرہ نے بدھ کے روز کہا کہ پارٹی نے نیشنل کانفرنس کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کسی بھی اتحاد سے متعلق بات چیت سے قبل دہلی میں پارٹی کی مرکزی قیادت کی ہدایت کا انتظار کیا جائے گا۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قرہ نے کہا، ’’کانگریس نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ میں شرکت نہیں کرے گی۔ جب تک دہلی میں ہماری مرکزی قیادت کی جانب سے واضح اشارہ نہیں ملتا، ہم نیشنل کانفرنس کی کسی میٹنگ میں شامل نہیں ہوں گے‘‘۔
اس سے قبل دن کے دوران، کانگریس لیجسلیٹو پارٹی کی میٹنگ سرینگر میں ہوئی، جس میں جمعرات سے شروع ہونے والے جموں و کشمیر اسمبلی کے خزاں اجلاس سے قبل سیاسی، انتظامی اور معاشی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ قرہ نے بتایا کہ میٹنگ مکمل نہیں ہو سکی اور جمعرات کو جاری رہے گی۔
قرہ نے کہا’’لیجسلیٹو پارٹی کے ارکان نے اپنے خیالات اور آراء کا اظہار کیا ہے، جنہیں باضابطہ طور پر رہنمائی کے لیے ہماری مرکزی قیادت کو دہلی بھیج دیا گیا ہے۔ پارٹی آئندہ کا لائحہ عمل صرف ہائی کمان سے مشاورت کے بعد ہی طے کرے گی‘‘۔
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ کانگریس ایک قومی جماعت ہونے کے ناطے اپنی مرکزی قیادت کی ہدایات کے مطابق ہی عمل کرے گی۔ ’’ہمارے ارکانِ اسمبلی کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز اور جذبات ہائی کمان کے ساتھ شیئر کیے گئے ہیں۔ ہم صرف ان کی رہنمائی کے بعد ہی آگے بڑھیں گے‘‘۔
جے کے پی سی سی سربراہ نے مزید کہا کہ یونین ٹریٹری میں حالیہ سیاسی پیش رفت نے پارٹی کو اپنی پوزیشن کا ازسرِنو جائزہ لینے پر مجبور کیا ہے۔’’گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے بعض اہم سیاسی واقعات نے ہمیں اس بات پر مجبور کیا ہے کہ کسی بھی اتحاد سے متعلق بات چیت میں حصہ لینے سے پہلے ہم ایک بار پھر اپنی مرکزی قیادت سے مشورہ کریں‘‘۔
قرہ نے کہا کہ کانگریس لیجسلیٹو پارٹی جمہوری اقدار کے تحفظ اور اسمبلی میں عوامی مسائل کی مؤثر نمائندگی کے لیے متحد ہے۔ان کاکہنا تھا’’ہمیں اس عمل پر مکمل اعتماد ہے، اور ہم اسمبلی کے پلیٹ فارم کو ذمہ داری اور احترام کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘‘۔
دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے رہنما ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ راجباغ کے ریڈیسن ہوٹل پہنچے جہاں انہوں نے اتحادی جماعتوں کے ارکانِ اسمبلی کی میٹنگ کی صدارت کرنی تھی۔ اس میٹنگ کا مقصد راجیہ سبھا انتخابات اور اسمبلی اجلاس کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔ تاہم، کانگریس کی غیرحاضری نے اتحاد کے اندر نشستوں کی تقسیم اور قانون سازی میں تعاون کے حوالے سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کو نمایاں کر دیا۔
قرہ نے بتایا کہ دہلی کی قیادت سے مزید ہدایات موصول ہونے کے بعد کانگریس کی میٹنگ جمعرات کو دوبارہ منعقد ہوگی۔
دریں اثنا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعرات کی صبح سرینگر میں اپنی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ طلب کی ہے تاکہ جموں و کشمیر اسمبلی کے خزاں اجلاس کے لیے حکمتِ عملی تیار کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی کے معروف رہنما سنیل کمار شرما تمام بی جے پی قانون سازوں کی میٹنگ کی صدارت کریں گے تاکہ حکومت کو مختلف معاملات پر گھیرنے کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل تیار کیا جا سکے۔
ایک بی جے پی ایم ایل اے نے بتایا’’ہم کل صبح۳۰:۸بجے میٹنگ کر رہے ہیں تاکہ اجلاس کے دوران اٹھائے جانے والے مسائل پر تفصیلی غور کیا جا سکے‘‘۔
شرما نے اس سے قبل کہا تھا کہ بی جے پی نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت سے ان کے بقول ’انتخابی وعدوں کی دھوکہ دہی‘ پر جواب طلب کرے گی۔ انہوں نے کہا’’حکومت انتخابات کے دوران کیے گئے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے …چاہے وہ ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی کا وعدہ ہو، ہر گھر کو ۱۲؍ایل پی جی سلنڈر دینے کا عہد ہو یا عوام سے کیے گئے دیگر یقین دہانیاں‘‘۔
حزب اختلاف کے لیڈر نے مزید کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت سے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکامی پر بھی سوال کرے گی۔ ’’انتخابات میں حکومت نے ایک لاکھ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب تک کچھ نہیں کیا گیا۔ ہم ان سے پوچھیں گے کہ گزشتہ ایک سال میں نوجوانوں کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟مشرق خبر‘‘










