تہران/21اکتوبر//
ایران نے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی نئی پیشکش مسترد کر دی ہے اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی ہے کہ جون میں امریکی فضائی حملے میں ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کر دی گئی تھیں۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک بیان میں واشنگٹن پر ’’زبردستی اور دھونس‘‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی ڈیل کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ ہے۔
تہران اور واشنگٹن کے درمیان پانچ مرحلوں پر مشتمل بالواسطہ جوہری مذاکرات کے بعد جون میں 12 روزہ فضائی جنگ ہوئی تھی، جس کے دوران اسرائیل اور امریکہ نے ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
خامنے ای نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا، ’’ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ ایک ڈیل میکر ہیں، لیکن اگر کوئی معاہدہ دباؤ اور پہلے سے طے شدہ نتائج کے ساتھ ہو تو وہ معاہدہ نہیں بلکہ زبردستی اور غنڈہ گردی ہے۔‘‘
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ واشنگٹن کے لیے ایران کے ساتھ ’’امن معاہدہ‘‘ کرنا ایک اچھی بات ہوگی، خاص طور پر اس وقت جب اسرائیل اور فلسطینی گروپ حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کا آغاز ہوا ہے۔
خامنے ای نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’امریکی صدر فخر سے کہتے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جوہری صنعت کو تباہ کر دیا۔ بہت خوب، خواب دیکھتے رہو۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’ایران کے پاس جوہری تنصیبات ہیں یا نہیں، اس کا امریکہ سے کیا تعلق؟ یہ مداخلتیں نامناسب، غلط اور جبری ہیں۔‘‘
مغربی طاقتیں ایران پر خفیہ طور پر جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوششوں کا الزام لگاتی ہیں اور یورینیم افزودگی کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ تاہم تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کے پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
خامنے ای نے کہا کہ ایران ’’نرم جنگ‘‘ کا سامنا کر رہا ہے اور ٹرمپ ایرانی عوام کا حوصلہ توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق، ’’نرم جنگ میں دشمن کوشش کرتا ہے کہ عوام کو مایوس کر دے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کھو بیٹھیں۔ امریکی صدر نے چند کھوکھلے الفاظ اور اپنی مسخرہ پن کے ذریعے مقبوضہ فلسطین میں مایوس صیہونیوں کا حوصلہ بڑھانے کی کوشش کی۔ یہی امریکی صدر کے دورہ? مقبوضہ فلسطین کا میرا تجزیہ ہے۔‘‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ میں ’’اسرائیلی فوج کو ایسا سخت دھچکا لگا جس کی انہیں توقع نہیں تھی، اور اب وہ مایوس ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر مقبوضہ فلسطین گئے تاکہ ان کے حوصلے کو بحال کریں۔‘‘
خامنے ای کے مطابق، ’’ایرانی میزائلوں نے صیہونی حکومت کے کئی اہم مراکز کی گہرائیوں تک پہنچ کر انہیں تباہ کر دیا۔‘‘
انہوں نے امریکہ کو ’’دہشت گرد ریاست‘‘ قرار دیا اور الزام لگایا کہ واشنگٹن غزہ میں جاری جنگی جرائم میں شریک ہے۔
ان کے مطابق، ’’امریکی وسائل اور ہتھیار صیہونی حکومت کو دیے گئے تاکہ وہ غزہ کے نہتے عوام پر برسائے جا سکیں۔ امریکہ اس جرم میں شریک ہے۔ امریکی صدر کہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں، لیکن بیس ہزار سے زائد بچے اور شیرخوار ان حملوں میں مارے گئے۔‘‘
خامنے ای نے کہا، ’’چار پانچ سال کے بچے، نومولود، سب کو تم نے قتل کیا — کیا یہ بچے دہشت گرد تھے؟ دہشت گرد تم خود ہو۔‘‘
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ امریکہ ہی نے داعش جیسے دہشت گرد گروپ پیدا کیے اور انہیں مغربی ایشیا پر چھوڑ دیا۔
’’تم، امریکہ والے، وہ دہشت گرد ہو جنہوں نے داعش بنائی اور اسے مغربی ایشیا پر چھوڑ دیا۔ تم نے انہیں محفوظ رکھا ہوا ہے تاکہ کسی وقت اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکو۔ داعش کے کچھ عناصر اس وقت امریکی کنٹرول میں ہیں۔‘‘
خامنے ای نے سوال اٹھایا، ’’امریکہ کو کیا حق ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ کون سا ملک جوہری صنعت رکھ سکتا ہے؟ دنیا میں تمہاری کیا حیثیت ہے؟ ایران کے پاس جوہری صلاحیت ہے یا نہیں، اس سے امریکہ کا کیا لینا دینا؟‘‘









