نئی دہلی/۱۸؍اکتوبر
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ روسی جمہوریہ کالمیکیا میں بھگوان بدھ کے مقدس آثار کی نمائش سے ہندوستان اور روس کے لوگوں کے درمیان باہمی تعلقات مضبوط ہوں گے ۔
وزارت ثقافت نے ہفتے کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ سنہا، جو مقدس آثار کو واپس لانے کے لیے جمعہ کو روس پہنچے تھے ‘نے باوقار گیڈن شیڈپ چوکورلنگ مٹھ میں موجود آثار کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ، جسے ’شکیمونی بدھ کا سنہری مسکن‘کہا جاتا ہے ۔ یہ جمہوریہ ہندوستان اور روس کے درمیان روحانی دوستی کے ایک طاقتور پل کے طور پر کھڑا ہے ، جو ثقافتی تعلقات میں ہندوستان کی کوششوں اور بدھ کی تعلیمات میں اتحاد کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے ۔
سنہا نے ’کھٹک‘کے ساتھ مقدس آثار پیش کیے اور مندر میں چراغ روشن کیا۔ انہوں نے بکولا رنپوچے کے سامنے بھی دعا کی اور ’کھٹک‘پیش کیا۔ سنہا نے شاجن لامہ کو کشمیری شال بھی پیش کی اور ان کا آشیرواد حاصل کیا۔
جمہوریہ کالمیکیا کی راجدھانی الیسٹا میں ایک نمائش میں شرکت کے بعد مسٹر سنہا مقدس آثار کو ہندوستان لا رہے ہیں۔ ہندوستانی وفد اتوار کو ہندوستان پہنچے گا۔
اس سے پہلے سنہا نے روس کے کالمیکیا میں ہندوستان سے لائے گئے بدھ مت کے مقدس آثار کی زیارت کی۔
ان مقدس آثار کو ایلیٹا کے مرکزی بدھ مت خانقاہ، گیڈن شیڈوپ چوئی کورلنگ خانقاہ میں انتہائی احترام کے ساتھ رکھا گیاہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر کے دفتر کے’ایکس‘ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا گیا’’مہاتما بدھ کے مقدس آثار کی زیارت کی جو ہندوستان سے لائے گئے تھے اور ایلیسٹا کی مرکزی بدھ خانقاہ میں رکھے گئے تھے ، جسے گیڈن شیڈوپ چوئی کورلنگ خانقاہ کہا جاتا ہے ‘‘۔
ایل جی سنہا نے دعا کرتے ہوئے کہا’’میں مہاتما بدھ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہم سب کو برکت دے اور لوگوں کے درمیان روحانی بندھن کو مزید مضبوط کرے ‘‘۔
واضح رہے کہ منوج سنہا جمعہ کے روز روس پہنچے ۔ وہ بدھ مت کے مقدس آثار واپس لانے والی ایک وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
ان کے ’ایکس‘ہینڈل پر گذشتہ روز ایک پوسٹ میں کہا گیا’’لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ایلسٹا، کلمیکیا (روس) پہنچ گئے ہیں۔ وہ بدھ مت کے مقدس آثار کی زیارت کے ساتھ ساتھ جمہوریہ کلمیکیا کے سربراہ مسٹر باتو سرگیوِچ خاصیکوف، وہاں کے مذہبی پیشوا شاجن لاما، معزز بھکشوؤں اور مقامی عقیدت مندوں سے ملاقات کریں گے ‘‘۔
یہ مقدس آثار روس میں ایک ہفتے طویل عوامی نمائش کے بعد اب بھارت واپس لائے جا رہے ہیں۔ منوج سنہا کا یہ دورہ نہ صرف مذہبی عقیدت کا مظہر ہے بلکہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی روابط کو نئی توانائی ملنے کی اُمید کی جا رہی ہے ۔










