نئی دہلی، 17 اکتوبر (یو این آئی) مرکزی حکومت نے شمال مشرقی ریاستوں پر خصوصی توجہ دی ہے ، جس کی وجہ سے یہاں کی اوسط شرح ترقی گزشتہ 11 سال میں 9 سے 11 فیصد رہی، جو ملک کی اوسط شرح ترقی7.5 فیصد سے کافی زیادہ ہے ۔
شمال مشرقی خطے کی ترقی کے وزیر جیو تی را دتیہ سندھیا نے جمعہ کے روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شمال مشرقی خطے میں زراعت، تجارت، ہوائی، سڑک اور ریل رابطے کے شعبوں میں اتنا کام ہوا ہے کہ اسے آج ملک کی ترقی کا انجن کہا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کی صلاحیت اور تنوع بے مثال ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ اسے اور بہتر بنا کر عالمی سطح پر پیش کیا جائے ۔
مسٹر سندھیا نے کہا کہ وہاں سرمایہ کاری کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں اور صنعتکاروں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے ، جس کے بہتر نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اس سال مئی میں منعقدہ رائزنگ نارتھ ایسٹ کانفرنس کے دوران 4 لاکھ 48 ہزار کروڑ روپے سرمایہ کاری کے منصوبے حاصل ہوئے ۔
انہوں نے بتایا کہ شمال مشرقی ریاستوں میں پام آئل، آگار ووڈ اور بانس کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہر ریاست سے ایک پروڈکٹ منتخب کیا گیا ہے جس کی پیداوار، پراسیسنگ اور برآمدات کو فروغ دے کر اسے ریاست میں اہم روزگار فراہم کرنے والا شعبہ بنایا جائے گا۔
مسٹرسندھیا نے کہا کہ پچھلے 11 سال میں شمال مشرق کی آٹھ ریاستوں میں ہوائی اڈوں کی تعداد 9 سے بڑھ کر 17 ہو گئی ہے اور قومی شاہراہوں کی لمبائی 10 ہزار کلومیٹر سے بڑھ کر 16 ہزار کلومیٹر ہو گئی ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ شمال مشرقی ریاستوں میں ترقی کی بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں۔ یہاں کی 70 فیصد آبادی کی عمر 28 سال سے کم ہے اور اوسط شرح خواندگی 92 فیصد ہے ، جبکہ کچھ ریاستوں میں خواندگی کی شرح 100 فیصد ہے ۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے اشٹ لکشمی درشن پروگرام کے تحت ملک بھر کے 3,200 طلبہ شمال مشرقی خطے کا دورہ کریں گے ۔
مسٹر سندھیا نے کہا کہ حکومت نے عالمی سطح پر شمال مشرقی خطے کی صلاحیت کو پیش کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی ریاست کی خوبصورتی اور خوشحالی لاجواب ہے اور یہ دنیا کا ‘سنگریلا’ ہے ۔










