سرینگر/۱۷؍اکتوبر
ایک اہم پیش رفت کے تحت وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) نے جمعہ کو ۲۴ستمبر کو لیہہ میں پیش آئے پرتشدد واقعات کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا ہے، جن میں چار عام شہری جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
وزارتِ داخلہ کے حکم نامے کے مطابق، سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج ڈاکٹر جسٹس بی۔ ایس۔ چوہان ان واقعات کے اسباب، امن و امان کی صورتحال، پولیس کارروائی اور چار شہریوں کی ہلاکت کے محرکات کی جانچ کریں گے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے’’۲۴ستمبر۲۰۲۵ کو لیہہ شہر میں سنگین امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی، جس کے دوران پولیس کارروائی کے نتیجے میں چار افراد کی ہلاکت ہوئی۔ اس سلسلے میں ایف آئی آر نمبر ۱۴۴/۲۰۲۵ پولیس اسٹیشن لیہہ میں بھارتیہ نیائے سنہیتا۲۰۲۳ کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی ہے۔ چونکہ اس واقعے کی عدالتی جانچ ضروری سمجھی گئی ہے، اس لیے وزارتِ داخلہ، حکومتِ ہند، سپریم کورٹ آف انڈیا کے سابق جج محترم ڈاکٹر بی۔ ایس۔ چوہان کی سربراہی میں عدالتی تحقیقات کا حکم جاری کرتی ہے تاکہ واقعے کے اسباب، پولیس کارروائی اور اموات کی تفصیلات کا تعین کیا جا سکے‘‘۔
مزید بتایا گیا ہے کہ جسٹس چوہان کی معاونت کے لیے ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج موہن سنگھ پریہار بطور جوڈیشل سیکریٹری اور آئی اے ایس افسر تشار آنند بطور ایڈمنسٹریٹو سیکریٹری خدمات انجام دیں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل۲؍اکتوبر کو لداخ انتظامیہ نے ایس ڈی ایم نوبرا مکْل بینی وال کی سربراہی میں ایک مجسٹریل انکوائری کا اعلان کیا تھا تاکہ ستمبر کے فسادات کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین کیا جا سکے۔
تاہم لداخ کی کئی تنظیموں، بشمول لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس، کے ساتھ مذہبی و سماجی شخصیات نے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
ادھر وزارتِ داخلہ کے فیصلے کا لداخ کے رہنماؤں نے خیرمقدم کیا ہے۔ کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے رکن اور سماجی کارکن سجاد حسین کرگلی نے کہا’’حکومت نے ۲۴ستمبر کے سانحہ لیہہ کی تحقیقات کے لیے جسٹس بی۔ ایس۔ چوہان کی سربراہی میں عدالتی انکوائری کا اعلان کیا ہے۔ ہم اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم انصاف اْس وقت مکمل ہوگا جب تمام گرفتار افراد بشمول سونم وانگچک کو رہا کیا جائے، متاثرین کو معاوضہ اور طبی امداد فراہم کی جائے، اور لداخ کو ریاستی درجہ و چھٹے شیڈول کی آئینی ضمانتیں دی جائیں‘‘۔
یاد رہے کہ۹؍اکتوبر کو چیف سکریٹری لداخ ڈاکٹر پون کوتوال نے سول سوسائٹی کے اراکین سے ملاقات کے دوران یقین دلایا تھا کہ عدالتی تحقیقات کے معاملے پر وزارتِ داخلہ سے بات چیت جاری ہے۔
اس دورن کرگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے شریک چیئرمین اصغر علی کربلائی نے جمعے کے روز کہا کہ حکومت کا رویہ عوامی خواہشات اور مطالبات کے حوالے سے انتہائی غیر مناسب اور غیر حساس رہا ہے۔
کربلائی نے کہا کہ عوام کے حقیقی مسائل کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے جس کے خلاف اب ’کے ڈی اے‘ نے ایک منظم اور پرامن احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے میں کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے اعلان کیا ہے کہ ہفتہ، ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۲۵ کو ایک خاموش اور پرامن احتجاجی مارچ منعقد کیا جائے گا۔ یہ مارچ چنگرہ بازار سے شروع ہوکر مین مارکیٹ سے گزرتا ہوا زینبیہ چوک تک پہنچے گا اور بالآخر لال چوک، کرگل میں اختتام پذیر ہوگا۔
کربلائی کے مطابق، اسی طرح کے خاموش مارچ ضلع کے تمام سب ڈویڑن اور بلاک ہیڈکوارٹرز پر بھی منعقد کیے جائیں گے تاکہ پورے خطے کی عوام اپنی ناراضگی اور یکجہتی کا اظہار کر سکیں۔
کے ڈی اے لیڈر نے مزید بتایا کہ شام کے وقت پورے لداخ خطے میں علامتی بلیک آؤٹ منایا جائے گا تاکہ لیہہ واقعہ کے متاثرین کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جاسکے۔
کربلائی نے کہا کہ یہ علامتی اقدام اس پیغام کے طور پر بھی ہوگا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے دیے گئے یونین ٹیریٹری کے درجے کی وجہ سے لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے ہیں۔
ان کے مطابق، وقت آ گیا ہے کہ حکومت عوامی احساسات کا احترام کرے اور لداخ کے عوام کے ساتھ بامعنی سیاسی بات چیت کا آغاز کرے تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی اور ناراضگی کا ازالہ کیا جا سکے۔
(ندائے مشرق ڈیسک)










