سرینگر/۱۵؍اکتوبر
لداخ کے ضلع لہیہ میں انتظامیہ نے بدھ کے روز وہ پابندیاں ہٹا دیں جو ریاستی درجہ کے مطالبے پر ہونے والے پْرتشدد احتجاج کے بعد گزشتہ ۲۲ دنوں سے نافذ تھیں۔ اس احتجاج میں چار افراد ہلاک اور ۸۰ سے زائد زخمی ہوئے تھے۔
ضلع انتظامیہ نے ۲۴ ستمبر کو’بھارتیہ نگریِک سرکشا سنہِتا‘ کی دفعہ ۱۶۳ کے تحت احکامات جاری کر کے پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
افسران کے مطابق اس دوران کسی نئی پْرتشدد کارروائی کی اطلاع نہیں ملی۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لیہ، رومل سنگھ ڈونک نے اپنے تازہ حکم نامے میں کہا، ’’میں اس دفتر کے ۲۴ ستمبر کے حکم کے تحت عائد پابندیاں فوری طور پر واپس لیتا ہوں۔‘‘انہوں نے کہا کہ امن و عامہ برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کی بدامنی کو روکنے کے لیے یہ پابندیاں دفعہ ۱۶۳ کے تحت لگائی گئی تھیں۔
بدھ کے روز سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ امن و امان کے بگڑنے کا کوئی فوری خدشہ نہیں ہے، لہٰذا پابندیاں ہٹانے کی سفارش کی گئی، جس پر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے منظوری دے دی۔
واضح رہے کہ۲۶ ستمبر کو ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو گرفتار کیا گیا تھا، دو دن بعد جب ریاستی درجہ اور چھٹی شیڈول کے مطالبے پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں چار افراد ہلاک اور ۹۰زخمی ہوئے تھے۔
وانگچک کو مبینہ طور پر تشدد بھڑکانے کے الزام میں’نیشنل سکیورٹی ایکٹ‘ کے تحت حراست میں لے کر جودھپور جیل بھیج دیا گیا تھا۔
اس دوران لداخ انتظامیہ نے کانگریس کے کونسلر اسٹینزن تسپنگ سمیت۷؍ افراد کو رہا کر دیا ہے جن کو۲۴ ستمبر کو لیہہ میں ہونے والے پر تشدد احتجاج کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔
لیہہ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد شفیع لاسو کے مطابق منگل کے روز لیہہ میں پر تشدد احتجاج کے سلسلے میں گرفتار تمام۷؍ افراد کو ضمانت دے دی گئی جن میں کانگریس کونسلر اسٹینزن تسپنگ،لیہہ ایپکس باڈی (ایل اے بی) کی خاتون صدر، انجمن معین الاسلام کے یوتھ صدر اور لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن(ایل بی اے) کے ارکان شامل ہیں۔
تسپنگ کی گرفتاری اس وقت متنازع بن گئی تھی جب تشدد کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نقاب پوش شخص کی لاٹھی اٹھائے تصویر وائرل ہوئی تھی۔ بی جے پی نے دعویٰ کیا تھا کہ تصویر میں نظر آنے والا شخص تسپنگ ہے تاہم کانگریس لیڈر نے اس الزام کی سخت تردید کی تھی۔
کرگل ڈیموکریٹک الائنس کے لیڈر سجاد کرگلی نے کہا کہ لیہہ آٹونومس پہاڑی ترقیاتی کونسل کے کونسلر اسٹینزن تسپنگ جنہیں حالیہ لیہہ تشدد میں’جھوٹے مقدمے‘ میں پھنسایا گیا تھا، کو ضمانت مل گئی ہے۔
کرگلی نے کہا’’اس سے بعض میڈیا اداروں اور سیاسی لیڈروں کی بے بنیاد پروپگنڈا مہم بے نقاب ہوگئی، اب یہ واضح ہے کہ یہ گرفتاریاں لداخ کی پر امن جمہوری تحریک کو بدنام کرنے کی ایک کوشش کا حصہ تھیں‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’ہم سونم وانگچک اور چھٹے شیڈول اور ریاستی درجے کے مطالبے کیلئے سرگرم کارکنوں سمیت زیر حراست تمام لیڈروں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں‘‘۔
لاسو نے بتایا’’اب تک تقریباً۷۰گرفتار افراد میں سے ۵۰ سے زیادہ کو ضمانت دی جا چکی ہے۔
دریں اثنا ایل اے بی اور کے ڈی اے جو لداخ کے ریاستی درجے اور چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبے کی قیادت کر رہے ہیں، نے لداخ بھر میں دو گھنٹے کے پرامن خاموش مارچ اور شام کے وقت بلیک آئوٹ کے اعلان کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس پروگرام کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔
یہ نیا احتجاجی اعلان اس وقت سامنے آیا جب مرکز اور لداخ کے لیڈروں کے درمیان طویل عرصے سے زیر التوا مطالبات پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ان تنظیموں نے ۲۴ ستمبر کے واقعے کی عدالتی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ویب ڈیسک










