جموں/۱۳؍ اکتوبر
نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے جموں،سرینگر قومی شاہراہ پر بھاری موٹر گاڑیوں کی دو طرفہ ٹریفک کو کامیابی کے ساتھ بحال کر دیا ہے، جس سے وادی سے ضروری اشیاء اور پھلوں سے لدے ٹرکوں کی ملک کے دیگر بازاروں تک بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنایا گیا ہے، حکام نے کہا۔
اتھارٹی نے بتایا کہ۲۵۰ کلومیٹر طویل یہ شاہراہ، جو کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی واحد ہر موسم کی سڑک ہے، ۲۶؍ اگست کو متعدد تودے گرنے اور سڑک دھنسنے کے باعث کئی مقامات پر بند ہو گئی تھی، خاص طور پر ادھمپور ضلع میں تھارڈ پل اور بلی نالہ، اور رام بن ضلع میں ماروغ کے مقامات پر۔
حکام نے مزید بتایا کہ اگست اور ستمبر کے دوران شدید بارش، اچانک سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات کے بعد شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوئی تھی۔
اتھارٹی نے کہا کہ شاہراہ ۲۶؍ اگست کو متاثر ہوئی تھی اور ۱۰ ستمبر کو یک طرفہ ٹریفک کے لیے بحال کی گئی، جب این ایچ اے آئی نے جنگی پیمانے پر افرادی قوت اور مشینری کو متحرک کر کے رابطے کی بحالی کے کام کو انجام دیا۔
ایک این ایچ اے آئی اہلکار نے کہا، ’’مسلسل کوششوں کے بعد، متاثرہ حصوں کی مرمت کر کے بلیک ٹاپ کیا گیا۔ سب سے زیادہ متاثر اور حساس حصہ تھارڈ کے قریب، جو ادھمپور اور چنینی کے درمیان تقریباً ۳۰۰ میٹر لمبا ہے، ۵؍ اکتوبر کو مکمل طور پر بلیک ٹاپ کیا گیا، جس سے بھاری اور ہلکی دونوں گاڑیوں کی ہموار آمدورفت ممکن ہوئی۔‘‘
اہلکار نے کہا کہ اس بحالی سے اب تمام اقسام کی گاڑیوں کی دو طرفہ آمدورفت ممکن ہو گئی ہے، جس سے بھیڑ میں کمی آئے گی اور لکھنپور۔جموں۔سرینگر راہداری پر ٹریفک کا بلا رکاوٹ بہاؤ یقینی ہو گا۔
ان کا مزید کہنا تھا’’این ایچ اے آئی نے۹؍اکتوبر کو مقامی انتظامیہ سے درخواست کی تھی کہ لکھنپور۔جموں۔سرینگر شاہراہ پر تمام اقسام کی گاڑیوں کی دو طرفہ آمدورفت دوبارہ شروع کی جائے تاکہ ٹریفک کی روانی اور راستے پر بھیڑ بھاڑ سے بچا جا سکے‘‘۔
انہوں نے بتایا کہ این ایچ اے آئی جموں و کشمیر کی معیشت کی شہ رگ سمجھی جانے والی اس شاہراہ کی عملی کارکردگی کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے، خاص طور پر جاری پھلوں کے موسم کے دوران۔
ایک این ایچ اے آئی ترجمان نے کہا، ’’راہداری کے ساتھ باقاعدہ مانیٹرنگ اور مرمت کی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں تاکہ تمام مسافروں کے لیے محفوظ اور ہموار سفر کو یقینی بنایا جا سکے۔
ندائے مشرق خبر‘‘










