سرینگر/۱۰؍اکتوبر
کانگریس قیادت نے جمعہ کو کہا کہ یہ فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے کہ پارٹی تین محفوظ نشستوں میں سے کسی پر انتخاب لڑے گی یا کسی سخت مقابلے والی نشست پر۔
پارٹی کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق، نیشنل کانفرنس اور کانگریس دونوں جماعتوں کی قیادت کے درمیان بات چیت جاری ہے اور اب تک اس بات کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے کہ کانگریس کا امیدوار کس نشست سے الیکشن لڑے گا۔
ذرائع نے بتایا’’یہ ابھی طے نہیں ہوا کہ پارٹی کس نشست پر امیدوار کھڑا کرے گی‘‘،مزید یہ کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چند روز قبل نیشنل کانفرنس (این سی) کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے اس معاملے پر بات چیت کی تھی۔
مذاکرات کے دوران، این سی قیادت نے کانگریس کے لیے ایک نشست چھوڑنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ اس وقت جموں و کشمیر اسمبلی میں کانگریس کے چھ ارکان ہیں۔
ذرائع کے مطابق، پارٹی کے رکنِ پارلیمان سید نصیر حسین، جو جنرل سیکرٹری اور جموں و کشمیر کے انچارج ہیں، اس معاملے پر این سی قیادت کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں ہیں۔
یہ بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ دہلی میں موجود وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سینئر کانگریس رہنماؤں سے ملاقات ہوسکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، حکمران اتحاد کو چار میں سے تین نشستوں پر باآسانی کامیابی حاصل ہونے کی توقع ہے، جب کہ چوتھی نشست پر بی جے پی کو ۲۸ ووٹوں کے ساتھ برتری حاصل ہے، مقابلے میں اتحاد کے پاس۲۴ ووٹ ہیں۔
قبل ازیں، این سی نے راجیہ سبھا انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کا اعلان کیا۔ چودھری محمد رمضان، سجاد کچلو اور شمی اوبرائے کو پارٹی امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔
ایک پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کرتے ہوئے این سی جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر نے کہا کہ پارٹی نے تین امیدواروں کو حتمی شکل دے دی ہے اور چوتھی نشست کے سلسلے میں کانگریس کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا’’ہم نے ایک نشست کھلی رکھی ہے اور اس پر کانگریس کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے‘‘۔
این سی رہنماؤں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کانگریس کیلئے تین محفوظ نشستوں میں سے کوئی چھوڑنا چاہتے ہیں یا بی جے پی کے حق میں جھکی ہوئی کسی مقابلے کی نشست دینے پر غور کر رہے ہیں۔ندائے مشرق خبر










