بینگلورو، 09 اکتوبر (یو این آئی) کرناٹک کے وزیرِ داخلہ جی پرمیشور نے اعتراف کیا ہے کہ کابینہ سے استعفیٰ دینے والے وزراء نے اپنے عہدوں کے حوالے سے کچھ مطالبات پیش کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر "انہیں برطرف کیا گیا ہے ، تو وزیرِ اعلیٰ صورتحال کے مطابق ہائی کمان سے بات کریں گے ۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ریاست میں ممکنہ کابینہ ردوبدل کی قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں۔
مسٹر پرمیشور نے وضاحت کی کہ کابینہ میں تبدیلی سے متعلق فیصلہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت ہی کرتی ہے ۔
انہوں نے کہا، "یہ فیصلہ ہم نہیں کرتے ۔ اس پر غور و خوض اعلیٰ سطح پر کیا جاتا ہے ۔ ہماری تشویش یہ ہے کہ ہمیں معلوم نہیں کہ یہ خبریں کون پھیلا رہا ہے یا کس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ردوبدل ہونے والا ہے ۔ ہمیں ناموں کے بارے میں پہلے ہی تجاویز مل چکی ہیں۔”
وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے ارکانِ اسمبلی کو دوپہر کے کھانے پر مدعو کرنے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا،
"وزیرِ اعلیٰ کا ارکانِ اسمبلی کو ظہرانے پر بلانا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ یہ اعتماد اور باہمی رشتے کا معاملہ ہے ۔ کیا ہمیں ظہرانے کے بعد ہی ان پر اعتماد کرنا چاہیے ؟”
اس سے قبل سینئر وزیر ستیش جارکی ہولی نے عوامی طور پر کانگریس کی اعلیٰ قیادت سے اپیل کی تھی کہ وہ آئندہ ماہ حکومت کے مدتِ کار کے وسط میں وزیرِ اعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق جاری افواہوں اور قیاس آرائیوں کا نوٹس لے ۔ان غیر یقینی حالات نے پارٹی اور ریاستی انتظامیہ میں الجھن اور بے چینی کی فضا پیدا کر دی ہے ، اور بعض لوگ اسے "نومبر انقلاب” کا نام دے رہے ہیں۔








