حیدرآباد 9اکتوبر(یواین آئی)تلنگانہ ہائی کورٹ نے مقامی بلدی اداروں کے انتخابات میں بی سی طبقات کو 42 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے والے جاری کردہ جی او ایم 9 کے نفاذ پر عمل آوری کو روک دیا ہے ۔ عدالت نے عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے اس جی او پر عمل آوری کوتاحکم ثانی معطل کر دیا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کواندرون چارہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی اور درخواست گزاروں کو اس کے بعد دو ہفتوں میں اپنے اعتراضات داخل کرنے کی مہلت دی۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت 6ہفتوں بعد مقرر کی گئی ہے ۔ یہ فیصلہ دو دن تک جاری رہنے والی تفصیلی سماعت کے بعد سنایا گیا جس میں عدالت نے بی سی کوٹہ میں اضافہ کی قانونی حیثیت اور اس کے تناسب پر بحث کی۔ حکومت کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی نے بی سی ذاتوں کی گنتی کے لئے متفقہ قرارداد منظور کی تھی اور آزادی کے بعد مکمل ذاتوں کی گنتی صرف تلنگانہ میں ہی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گھر گھر جا کر سروے کیا گیا اور کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سروے کے مطابق ریاست میں بی سی آبادی 57.6 فیصد ہے اس بنیاد پر حکومت نے متفقہ طور پر 42 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا۔ اسمبلی نے بھی تسلیم کیا کہ بی سیز سیاسی طور پر پسماندہ ہیں اسی لئے قرارداد منظور کی گئی۔ایک اور وکیل روی ورما نے اپنے دلائل میں کہا کہ دستورمیں کہیں بھی ریزرویشن کے لئے 50 فیصد کی حد مقرر نہیں ہے ۔ ان کے مطابق ایس سی، ایس ٹی اور بی سی طبقات مجموعی طور پر 85 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں لیکن انہیں صرف 67 فیصد ریزرویشن دیا جا رہا ہے جب کہ 15 فیصد آبادی کے لیے 33 فیصد نشستیں کھلی رکھی گئی ہیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حکومت کے جی او نمبر 9 پر حکمِ التوا جاری کردیا اور اس کے نفاذ کو عارضی طور پر روک دیا۔








