سرینگر/۴؍اکتوبر
جموں کشمیر اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی ہر سیاسی جماعت، عوامی سطح پر چاہے کچھ بھی کہے، درپردہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ اپنے تعلقات برقرار رکھتی ہے۔
بخاری نے کئی سیاسی جماعتوں پر الزام لگایا کہ وہ انتخابات کے دوران عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کرتی ہیں کہ وہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھیں گی، مگر بعد میں اسی جماعت کے ساتھ ساز باز کر لیتی ہیں۔
ہفتہ کوسرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بخاری نے کہا’’جموں و کشمیر کی ہر سیاسی جماعت کا مرکزی حکومت کے ساتھ ایک ورکنگ ریلیشن ہے۔ الیکشن کے دوران ہر پارٹی وعدہ کرتی ہے کہ وہ بی جے پی کو اقتدار میں آنے نہیں دے گی، لیکن بعد میں وہی پارٹی اس کے ساتھ کام کرتی ہے‘‘۔
اپنی پارٹی کے صدر نے ۲۰۱۴ کے انتخابات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اْس وقت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ بی جے پی کو اقتدار کے قریب نہیں آنے دیں گی، لیکن بعد میں اسی پارٹی نے بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی۔
بخاری نے کہا’’۲۰۱۴ میں محبوبہ مفتی نے عوام سے کہا تھا کہ وہ بی جے پی کو اقتدار میں نہیں آنے دیں گی، لیکن بعد میں اسی بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملا لیا۔ پی ڈی پی آج بھی بی جے پی کی مدد سے چل رہی ہے۔ دونوں کے درمیان ایک فکس میچ ہے‘‘۔
بخاری، جن کی جماعت کو اکثر مرکز کے ساتھ حقیقت پسندانہ روابط رکھنے والی پارٹی کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیاسی اتحاد ہمیشہ اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ موقع پرستی پر استوار رہے ہیں۔ ان کے مطابق’’جموں کشمیر کے عوام کو بار بار جھوٹے وعدوں کے ذریعے گمراہ کیا گیا ہے، جو الیکشن کے نتائج کے فوراً بعد بھلا دیے جاتے ہیں‘‘۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کے ان بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ان کی جماعت کسی بھی صورت میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی، بخاری نے کہا’’اگر عمر عبداللہ یہ کہتے ہیں کہ نیشنل کانفرنس بی جے پی کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی، تو وہ اخلاقی طور پر درست بات کر رہے ہیں، کیونکہ انہوں نے اقتدار میں آتے وقت یہی وعدہ کیا تھا کہ وہ بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھیں گے‘‘۔
بخاری نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کی سیاست کو شفافیت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔’’سیاسی ساکھ اسی وقت بحال ہوسکتی ہے جب قائدین اپنے وعدوں پر قائم رہیں اور سیاسی موقع پرستی سے گریز کریں‘‘۔
ایک سوال کے جواب میں کہ آیا زیر حراست ایم ایل اے معراج ملک آئندہ اسمبلی اجلاس میں شرکت کر سکیں گے‘ بخاری نے کہا کہ یہ مکمل طور پر عدالت کے دائرہ اختیار میں ہے۔ انہوں نے کہا’’یہ عدالت پر منحصر ہے کہ وہ زیر حراست معراج ملک کو اسمبلی میں آنے کی اجازت دیتی ہے یا نہیں‘‘۔ بخاری نے اس معاملے پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ندائے مشرق خبر










