سرینگر/۳؍اکتوبر
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت اور چین رواں ماہ براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کریں گے‘جو تعلقات کو بتدریج معمول پر لانے کی طرف ایک اور قدم ہے۔
۲۰۲۰ کے بعد سے بھارت اور چین کی مشترکہ ہمالیائی سرحد پر فوجیوں کی ہلاکت خیز جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کوئی براہ راست پروازیں نہیں ہوئی ہیں لیکن گزشتہ ایک سال کے دوران دہلی اور بیجنگ سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے سمیت تعلقات کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں۔
جمعرات کوبھارت کی سب سے بڑی بجٹ ایئر لائن انڈیگو نے کہا کہ وہ۲۶ اکتوبر سے کولکتہ اور گوانگڑو شہروں کے درمیان براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرے گی۔
جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ پروازوں کی بحالی سے دونوں ممالک کے مابین ’عوام سے عوام کے رابطے‘ کو مزید آسان بنایا جائے گا اور ’دو طرفہ تبادلوں کو بتدریج معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔‘
بھارت اور چین کی ایک غیر متعین سرحد ہے جو ۳۴۴۰ کلومیٹر سے زیادہ لمبی ہے اور دونوں ہی مختلف علاقوں کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔
۲۰۲۰ میں دونوں ممالک کے فوجیوں کے درمیان دریائے گلوان وادی میں جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں کم از کم ۲۰ بھارتی فوجی اور چار چینی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
۱۹۷۵ کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان یہ پہلا مہلک تصادم تھا اور اس کے نتیجے میں تعلقات منجمد ہوگئے۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے کے دوران بیجنگ اور دہلی کشیدہ تعلقات کو آہستہ آہستہ دوبارہ بحال کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں۔
دونوں اطراف کے اعلیٰ حکام کے مابین بات چیت کے کئی ادوار اور ملاقاتیں ہوئیں۔ گذشتہ سال اکتوبر میں بھارت اور چین نے ہمالیہ کی متنازعہ سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے گشت کے انتظامات پر اتفاق ہوا تھا۔
اس سال چین نے بھارتی زائرین کو تبت کے خود مختار علاقے میں مذہبی اہمیت کے حامل کچھ مقامات پر جانے کی اجازت دی تھی جبکہ بھارت نے چینی سیاحوں کے لیے ویزا خدمات دوبارہ شروع کیں اور مقررہ پاسوں کے ذریعے سرحدی تجارت کو کھولنے کیلئے بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے محصولات عائد کرنے پر امریکہ کے ساتھ انڈیا کے کشیدہ تعلقات نے بھی دہلی اور بیجنگ کے تعلقات کو تقویت بخشی ہے۔
اگست میں چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے دہلی کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے کہا تھا کہ بھارت اور چین کو ایک دوسرے کو ’مخالف‘ کے بجائے ’شراکت دار‘ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اسی ماہ کے اواخر میں انڈیا میں چین کے سفیر سو فی ہونگ نے انڈیا اور دیگر ممالک پر بھاری محصولات عائد کرنے پر امریکہ کو ’بدمعاش‘ قرار دیا۔
اگست میں وزیر اعظم نریندر مودی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے دفاعی سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے سات سال میں پہلی بار چین کا دورہ کیا تھا۔ انھوں نے سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی اور دونوں نے بھارت اور چین کے تعلقات کو معمول پر لانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ویب ڈیسک










