سرینگر/۳؍اکتوبر
بھارت نے جمعہ کو کہا کہ پاکستان کو پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں بے گناہ مظاہرین کے خلاف انسانی حقوق کی’خوفناک‘خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
پی او جے کے کے کئی علاقوں میں حالیہ دنوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں عوام بنیادی حقوق، انصاف اور اس جبر کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے وہ منظم استحصال قرار دیتے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا’’ہم نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں احتجاج اور بے گناہ شہریوں پر پاکستانی فورسز کی بربریت کی رپورٹس دیکھی ہیں‘‘۔
جیسوال نے مزید کہا’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب پاکستان کے جابرانہ رویے اور ان علاقوں کے وسائل کی منظم لوٹ مار کا قدرتی نتیجہ ہے، جو اب بھی اس کے غیر قانونی اور زبردستی کے قبضے میں ہیں‘‘۔
جیسوال وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔
ترجمان نے کہا’’پاکستان کو انسانی حقوق کی ان خوفناک خلاف ورزیوں پر جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔‘‘
دریں اثناپاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر میں جموں و کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر جمعے کو مسلسل پانچویں روز بھی مکمل ہڑتال اور لاک ڈاؤن جاری رہا۔ تمام بازار، سڑکیں اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رہی جبکہ مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔
وزیرِ اعظم پاکستان کی جانب سے تشکیل دی گئی مذاکراتی کمیٹی نے جمعرات کے روز عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ تاہم، عوامی ایکشن کمیٹی نے مشاورت کیلئے کچھ وقت طلب کیا تاکہ وہ کشمیر بھر میں اپنے اراکین سے رائے لے سکے۔
ہڑتال اور احتجاج کے باعث روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہو چکی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گھروں میں راشن ختم ہو رہا ہے اور معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔
ایک مقامی شہری محمد شفیع نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سنجیدہ مذاکرات کرے تاکہ یہ احتجاج ختم ہو۔ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی چاہیے کہ صرف ہڑتال پر زور دینے کے بجائے بات چیت کو ترجیح دے، تاکہ لاک ڈاؤن ختم ہو اور نظامِِ زندگی بحال ہو سکے۔
جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے مطالبات میں حکمران طبقات کی مراعات اور پاکستان میں مقیم مہاجرین کی ۱۲ اسمبلی نشستوں کا خاتمہ، علاج معالجہ کی مفت سہولیات، یکساں و مفت تعلیم کی فراہمی،انٹرنیشنل ائیر پورٹ کا قیام شامل کیا ہے۔
اس کے علاوہ مطالبات میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ، عدالتی نظام میں اصلاحات بھی مطالبات کا حصہ ہیں۔ حکومت پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے دوران مذاکرات کئی مطالبات تسلیم کر لیے تھے مگر کچھ مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے تھے۔
پاکستان کے وزیر امور کشمیر امیر مقام نے جموں کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی سے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعد دعویٰ کیا کہ’ایکشن کمیٹی کے ساتھ دوران مذاکرات تمام عوامی مطالبات مان لیے گئے تھے مگر کشمیر کے اندر آئینی معاملات کو ہم ایک کمرے میں بیٹھے کر کیسے تسلیم کر سکتے تھے۔
(ویب ڈیسک)‘










