نئی دہلی، یکم اکتوبر (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی صد سالہ تقریب کے موقع پر خصوصی طور پر ڈیزائن کردہ ایک ڈاک ٹکٹ اور 100 روپے کا یادگاری سکہ جاری کیا۔
اس موقع پر سر کاریہ واہ دتاتریہ ہوسبلے ، مرکزی وزیر ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا موجود تھیں۔قومی راجدھانی میں ڈاکٹر امبیڈکر انٹرنیشنل سینٹر میں آر ایس ایس کی صد سالہ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کیشو بلی رام ہیڈگیوار نے 1925 میں ناگپور میں آر ایس ایس کی بنیاد رکھی تھی۔ آر ایس ایس نے اپنے سماجی اور خدمت کے کاموں کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، آفات میں راحت اور سماجی خدمات میں بے شمار تعاون کیا ہے ۔ آج جاری کردہ یادگاری ڈاک ٹکٹ اور سکے انہی شراکت کی علامت ہیں۔
مسٹر مودی نے کہا کہ خصوصی شمارے کے ڈاک ٹکٹ اور یادگاری سکے میں ایک طرف قومی نشان اور دوسری جانب شیر کے ساتھ ورد مدرا میں بھارت ماتا کی شاندار تصویر اور وقف جذبے سے اور نمن کرتے ہوئے سویم سیوک نظر آرہے ہیں۔ یہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں غالباً پہلی بار ہوا ہے کہ ہندوستانی کرنسی پر بھارت ماتا کی تصویر کو نمایاں کیا گیا ہے ۔
مسٹر مودی نے کہا کہ 1963 میں، آر ایس ایس کے سویم سیوکوں نے 26 جنوری کی قومی پریڈ میں حصہ لیا اور حب الوطنی کی دھن پر فخر کے ساتھ مارچ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کو قومی دھارے میں آنے سے روکنے کی بے شمار کوششیں کی گئیں۔ گرو گولوالکر کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا اور جیل بھیجا گیا۔ تاہم جب وہ باہر آئے تو بغیر کسی تلخی کے سماجی خدمت میں لگ گئے ۔
انہوں نے کہا کہ چاہے آر ایس ایس پر پابندی لگائی گئی ہو یا اس کے خلاف سازش کی گئی ہو، آر ایس ایس کے سویم سیوکوں نے کبھی تلخی کو راستہ نہیں دیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ معاشرے سے الگ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سویم سیوک جمہوریت اور آئینی اداروں پر یقین رکھتا ہے ۔ جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی تو اسی عقیدے نے سویم سیوکوں کو آگے بڑھایا۔ سماج کی طرف سے بے شمار مشکلات کا سامنا کرنے کے باوجود، آر ایس ایس اب بھی ایک بڑے برگد کی طرح کھڑا ہے ۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ایک صدی قبل راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا قیام کوئی اتفاق نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی روایت کا احیاء تھا جو ہزاروں برسوں سے موجود تھی۔ اس دور میں، سنگھ اسی ابدی قومی شعور کا پونیہ اوتار ہے ۔










