نئی دہلی،یکم اکتوبر (یو این آئی) غیر منقسم ہندوستان کے عالم اور قانون داں حاجی سمیع اللہ خاں بہادر کی زندگی سے اس وقت کے حالات اور تمدن کو سمجھنے پر زور دیتے ہوئے سابق مرکزی وزیر اور انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر کے صدر سلمان خورشید نے کہا کہ حاجی محمد سمیع اللہ خان بہادر کی سوانح عمری کا مطالعہ اُس دور کے حالات، ماحول اور تہذیب و تمدن کو سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے ۔
اس امر اظہارانہوں نے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان اور انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے اشتراک سے کونسل سے شائع شدہ کتاب’سوانح عمری حاجی سمیع اللہ خان بہادر سی ایم جی’ کے اجرا و مذاکرے کی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ عصر حاضر میں مسلمانوں کا مختلف علوم و فنون پر اورزبانوں پر دسترس حاصل کرنا نہایت ضروری ہے ۔ اسی سے وہ گے بڑھیں گے ۔
انہوں نے کہاکہ اس طرح کی نادر و نایاب کتابوں کی اشاعت ناگزیر ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان سے استفادہ کرسکیں اور ہندوستان کی اس زمانے کی صورتِ حال سے واقف ہوسکیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ حاجی محمد سمیع اللہ خان ایک عالم ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر قانون بھی تھے ۔ آج کے زمانے میں ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہے جو مختلف علوم پر دسترس رکھتے ہوں۔
قبل ازیں استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ حاجی سمیع اللہ خان بہادر ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ۔ وہ ماہر قانون ہونے کے ساتھ مختلف علوم و فنون میں بھی درک رکھتے تھے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ سمیع اللہ خان سرسید اور علی گڑھ تحریک کے اہم معاونین میں تھے ، بلکہ اے ایم یو تحریک کے لیے ان کی شخصیت بنیاد کے پتھر کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان کی شخصیت قومی ہمدردی و فکر مندی کے حوالے سے بھی اہمیت کی حامل تھی، ضرورت ہے کہ نئی نسل ایسی شخصیات کی زندگیوں کو مشعلِ راہ بنائے تبھی وہ قوم و ملک کی تعمیر میں مطلوبہ کردار ادا کرسکتی ہے ۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ جدید موضوعات پر کتابیں شائع کرنے کے ساتھ کلاسیکی کتابوں کی اشاعت بھی کونسل کے اشاعتی مینڈیٹ میں شامل ہے جس کے تحت یہ بے مثال سوانح عمری شائع کی گئی ہے اور آیندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر اور مہمانِ خصوصی نجیب جنگ نے حاجی محمد سمیع اللہ خان کے خاندانی پس منظر اور علمی کمالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مولانا کی سوانح عمری بے حد اہم ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی ہونا چاہیے تاکہ غیر اردو داں طبقہ بھی ان کی شخصیت اور اس دور کے ہندوستان سے بخوبی واقف ہوسکے ۔ انھوں نے مزید کہا کہ علی گڑھ کا علمی و تہذیبی کنٹری بیوشن پوری دنیا میں معروف ہے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں سرسید کے ساتھ مولانا سمیع اللہ خان کا بھی نمایاں کردار رہا ہے ، اس لیے ان کا نام اور کام ہمیشہ باقی رہے گا۔
کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر شافع قدوائی (شعبہ ماس کمیونی کیشن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی) نے کہا کہ مولوی سمیع اللہ کی شخصیت ہشت پہلو تھی۔ اس زمانے کے حالات کو سمجھنے کے لیے یہ کتاب نہایت اہم ہے اور اس کے مطالعے سے کئی نئی جہتیں سامنے آتی ہیں۔
معروف دانشور ایڈووکیٹ خلیل الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا سمیع اللہ خان کی شخصیت پر دفتر کے دفتر لکھے جاسکتے ہیں۔ وہ نہایت فصیح اور ٹکسالی عربی بولتے تھے اور بحیثیت جج ان کے فیصلے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ اس عظیم اور مقتدر شخصیت کی سوانح عمری کا مطالعہ ہم سب کو ضرور کرنا چاہیے تاکہ ہم ان کی علمی و شخصی عظمت سے روشناس ہوسکیں۔انہوں نے مزید کہاکہ سمیع اللہ خاں کی دو سو سے زائد فیصلے بطور نظیر شائع ہوئے ہیں۔ اس قدر نپے تلے فیصلے ہوتے تھے ان کے خلاف اپیل تک نہیں ہوتی تھی۔
کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ محمد شاہد (سابق پرو وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد) نے کہا کہ اس کتاب کی اہمیت دوہری ہے ۔ ایک تو یہ کہ جس شخصیت پر کتاب لکھی گئی ہے وہ خود بے حد اہم اور معروف ہے اور دوسرے یہ کہ اس کتاب کے مصنف بھی تعارف کے محتاج نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کتاب کے دو حصے ہیں: پہلے حصے میں مولانا کی حیات و شخصیت بیان کی گئی ہے اور دوسرے حصے میں ان کی تقاریر شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے مطالعے سے اُس زمانے کی دہلی اور اس کی تہذیب کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے ۔
اس موقعے پر بڑی تعداد میں اہلِ علم اور دانشوران موجود رہے ۔









