آرو ویلی‘ رافٹنگ پوائنٹ یانر‘اکڈ پارک‘پادشاہی پارک ‘درا شکوہ گارڈن‘ کمان پوسٹ اور ایکو پارک کھلے گی
سرینگر/۶۲ ستمبر
جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وادی کشمیر اور جموں ڈویڑن میں پہلگام حملے کے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کیے گئے ۲۱مزید سیاحتی مقامات کو ۹۲ ستمبر سے دوبارہ کھولا جائے گا۔
امسال۲۲اپریل کو پہلگام کی بائسرن وادی میں ایک دہشت گردانہ حملے میں ۵۲سیاحوں سمےت ۶۲افراد کو ہلاک کردیا گیا تھا جس کے بعد حکومت نے جموںکشمیر میں متعدد سیاحتی مقامات کو بند کردیا تھا ۔ حالیہ کچھ مہینوں سے سکیورٹی جائزہ لےنے کے بعد ان مقامات کو مرحلہ وار طور پر کھولا جا رہا ہے۔
۲۱سیاحتی مقامات کو فیصلہ یونائیٹڈ ہیڈکوارٹرز کی میٹنگ میں سکیورٹی صورتحال کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا گیا۔
ایل جی آفس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا”سکیورٹی کا مکمل جائزہ لینے اور آج کی یو ایچ کیو میٹنگ میں تفصیلی مشاورت کے بعد میں نے جموں و کشمیر میں مزید سیاحتی مقامات کھولنے کے احکامات دیے ہیں جو عارضی طور پر احتیاطی تدابیر کے تحت بند کیے گئے تھے“۔
بیان کے مطابق کشمیر میں کھولے جانے والے ۷مقامات میں آرو ویلی، رافٹنگ پوائنٹ یانر، اکڈ پارک، پادشاہی پارک (بجبہاڑہ)، درا شکوہ گارڈن (اننت ناگ)، کمان پوسٹ، اور ایکو پارک خادنیار (بارہمولہ) شامل ہیں۔ جبکہ جموں ڈویڑن میں دگان ٹاپ (رام بن)، ڈھاگر (کٹھوعی)، چنکہ (ریاسی)، شیو کیو (سلال، ریاسی) اور پادری (ڈوڈہ) دوبارہ۹۲ستمبر سے کھولے جائیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب حال ہی میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس بات پر تنقید کی تھی کہ وادی میں اب بھی کئی اہم سیاحتی مقامات بند رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان مقامات کو کھولا جانا چاہیے تاکہ سیاحوں کو وادی کی طرف راغب کیا جا سکے اور سیاحت کے شعبے کو نئی زندگی مل سکے۔
گزشتہ ہفتے گلمرگ میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سیاحت سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز اور کھلاڑیوں کو یقین دلایاتھا کہ وہ ان کے خدشات کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ اٹھائیں گے اور کشمیر کے کئی بند پڑے سیاحتی مقامات کو کھولنے کی درخواست کریں گے۔
عمرعبداللہ نے کہا تھا”ایک طرف ہم سیاحت کو فروغ دیتے ہیں لیکن دوسری طرف کئی مقامات بند پڑے ہیں۔ یہ ہماری مشکل صورتحال میں سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ جب آدھا کشمیر سیاحت کے لیے بند ہو تو فروغ کا مطلب ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ہم سیاحوں سے کیا کہیں…. کہ آپ گنڈولا پر سواری کر سکتے ہیں لیکن اے ٹی وی گراو ¿نڈز بند ہیں؟ آپ ٹنگمرگ جا سکتے ہیں لیکن درنگ نہیں، یا آپ پہلگام آ سکتے ہیں لیکن آرو اور بیتاب ویلی نہیں جا سکتے؟ بدترین حالات میں بھی ہم نے یہ علاقے بند نہیں رکھے تھے۔ اس لیے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں وزیر داخلہ سے بات کروں گا اور ان سے درخواست کروں گا کہ یہ مقامات کھول دیے جائیں۔ اس سے اعتماد بڑھے گا اور ہم مزید سیاحوں کو متوجہ کر سکیں گے“۔
وزیراعلیٰ کاکہنا تھا کہا کہ جب سیاحوں کو بتایا جاتا ہے کہ کچھ مقامات بند ہیں تو اس سے کشمیر کی مجموعی صورتحال کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔”ہمیں مرکزی حکومت کے ساتھ ایک صفحے پر آنا ہوگا، ورنہ ہماری کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔“
بعد ازاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ اگر مشہور سیاحتی مقامات سیاحوں کےلئے بند رہیں تو حکومت کی سیاحت کو فروغ دینے کی مہمات بے معنی ہوں گی۔
عمرعبداللہ نے کہا تھاکہ حال ہی میں پہلگام میں پیش آیا واقعہ نہیں ہونا چاہئے تھا، تاہم اس کے بعد کئی اصلاحی اقدامات کئے گئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ کاکہنا تھا کہا”پہلگام میں جو ہوا، وہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس کے بعد متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ لیکن جب تک بند مقامات کو کھولا نہیں جاتا، ہماری سیاحتی تشہیر ایک فضول مشق رہے گی۔ اگر وہ کھلے نہیں ہیں تو پھر سیاحت کو فروغ دینے پر وسائل خرچ کرنے کا کیا فائدہ؟“
عمرعبداللہ نے اس بات پر زور دیا کہ جموں و کشمیر کی معیشت بڑی حد تک سیاحت پر منحصر ہے اور خبردار کیا کہ مقامات کو بند رکھنے سے وادی کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔
کشمیر کے سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد بارہا اس بات پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں کہ مختلف ریزورٹس تک رسائی پر پابندیوں سے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد متاثر ہوتی ہے۔
سیاحت جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تصور کی جاتی ہے اور مقامی ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور ہنڈی کرافٹ انڈسٹری اس پر براہِ راست انحصار کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بندشوں کے خاتمے اور نئے سیاحتی مقامات کے کھلنے سے نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا ملے گا بلکہ ریاست کا مثبت تاثر بھی اجاگر ہوگا۔(ندائے مشرق خبر)










