نئی دہلی، 25 ستمبر (یو این آئی) کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی نے مرکزی حکومت کی فلسطین پالیسی کو انسانیت اور اخلاقیات سے بے اعتنائی قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کو اس معاملے میں پیش قدمی کرنی چاہئے لیکن حکومت کا رویہ خاموشی اور ذاتی دوستی پر مبنی دکھائی دیتا ہے ۔
محترمہ گاندھی نے فلسطین کے مسئلے پر مرکزی حکومت کی پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں حکومت کے رویے میں انسانیت اور اخلاقیات سے واضح بے اعتنائی نظر آتی ہے ۔
انہوں نے جمعرات کے روز ایک اخباری مضمون میں کہا کہ حکومت کا رخ ملک کے آئینی اقدار یا اسٹریٹجک مفادات کے بجائے زیادہ تر وزیراعظم مودی اور ان کے اسرائیلی ہم منصب بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ذاتی دوستی سے متاثر دکھائی دیتا ہے ۔ فلسطین کے مسئلے پر ہندوستان کو قیادت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے لیکن حکومت کے ردعمل میں گہری خاموشی اور انسانیت و اخلاقیات دونوں سے چشم پوشی شامل ہے ۔
انہوں نے مزید لکھا کہ یہ ذاتی سفارت کاری کبھی بھی مستقل نہیں ہو سکتی اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا رہنما اصول نہیں بن سکتی۔ اس طرز کے اقدامات خاص طور پر امریکہ میں گزشتہ چند مہینوں میں نہایت ذلت آمیز انداز میں ناکام ہوئے ہیں۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ فرانس فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے میں برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور آسٹریلیا کے ساتھ شامل ہو گیا ہے ۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 150 سے زائد ممالک اب تک ایسا کر چکے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ ہندوستان اس معاملے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے ، جس نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی طویل حمایت کے بعد 18 نومبر 1988 کو باضابطہ طور پر فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا۔ محترمہ گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کو فلسطین کے مسئلے پر قیادت دکھانے کی ضرورت ہے ، جو اب انصاف، شناخت، عزت اور انسانی حقوق کی جدوجہد ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ محترمہ گاندھی نے گزشتہ چند مہینوں میں اسرائیل-فلسطین تنازعے پر تیسری بار مضمون لکھا ہے اور ہر بار اس معاملے پر مرکزی حکومت کے موقف کی سخت تنقید کی ہے ۔










