واشنگٹن، 24 ستمبر (یو این آئی) دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں والے ممالک کے گروپ جی 7 نے اسرائیل سے غزہ میں فوری انسانی امداد بھیجنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کے اپنے مطالبے کو دہرایا اور کہا کہ اسرائیل کو انسانی امداد کے داخلے کی فوری اجازت دینی چاہیے ۔
وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں غزہ کے شہریوں کے شدید مصائب کو کم کرنے کیلیے انسانی امداد اور تمام یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہیں، فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔
جی 7 کا کہنا تھا کہ حماس کا غزہ کے مستقبل میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا اور وہ دوبارہ کبھی اسرائیل کیلیے خطرہ نہیں بننا چاہیے ، ہم نے غزہ میں تعمیر نو اور مستقل امن کے قیام کیلیے عرب شراکت داروں کے ساتھ تجاویز پر کام کرنے کیلیے اپنے ارادے کے بارے میں بتایا ہے ۔
واضح رہے کہ جی 7 ممالک ایک بین الاقوامی گروپ ہے جس میں بڑی اور ترقی یافتہ معیشتوں والے 7 ممالک شامل ہیں۔ امریکا، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور کینیڈا اس کا حصہ ہیں۔
یہ ممالک عالمی معاشی، سیاسی اور ماحولیاتی مسائل پر تبادلہ خیال اور تعاون کیلیے باقاعدگی سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ ان ممالک کے سربراہی اجلاس ہر سال منعقد ہوتے ہیں جہاں رہنما اہم عالمی چیلنجز پر بات چیت کرتے ہیں۔
امریکہ نے حزب اللہ کے معاون پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا
واشنگٹن، 24 ستمبر (یو این آئی) امریکہ نے حزب اللہ کے ساتھ معاونت کرنے پر علی قصیر نامی شخص کے سر پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام رکھا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق امریکی وزارتِ خارجہ کے پروگرام ‘ریوارڈ فار جسٹس’ نے منگل کو اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ایک اعلان جاری کیا ہے جس میں علی قصیر نامی شخص کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے ۔
بتایا گیا کہ علی قصیر ‘تلاقی گروپ’ کمپنی میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے اور اس پر الزام ہے کہ وہ کمپنی میں اپنے عہدے کو استعمال کرتے ہوئے حزب اللہ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کو مالی وسائل حاصل کرنے اور پابندیوں سے بچنے میں مدد دیتا ہے ۔
اعلان کے مطابق علی نے تیل، فولاد اور غیر قانونی اشیا کی فروخت کے ذریعے حزب اللہ اور قدس فورس کی مدد کی، اس پر حزب اللہ اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان مالی سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے کا بھی الزام ہے ۔
وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ جو کوئی بھی علی قصیر یا حزب اللہ کے مالی نیٹ ورک اور اس سے جڑی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گا وہ مخصوص ذرائع سے رابطہ کرسکتا ہے اور ایسی معلومات پر اُسے ایک کروڑ ڈالر تک انعام دیا جا سکتا ہے ۔







