واشنگٹن، 20 ستمبر (یو این آئی) امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز چین کے صدر شی جن پنگ سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں ٹک ٹاک سے متعلق معاہدہ، دو طرفہ تجارت اور کئی دیگر امور پر اتفاق رائے ہوا۔
مسٹر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ” پر اس گفتگو کو ”کامیاب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنما اس سال اکتوبر کے آخر میں جنوبی کوریا میں ہونے والی ایشیا بحر الکاہل اقتصادی تعاون (اے پی ای سی) سے متعلق سربراہ کانفرنس میں ملاقات کریں گے ۔ اس کے بعد اگلے سال کے آغاز میں امریکی صدر چین کا دورہ کریں گے اور بعد ازاں چینی صدر بھی امریکہ جائیں گے ۔
قابل ذکر ہے کہ جو بائیڈن کے دورِ صدارت میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں کشیدگی آئی تھی۔ حتیٰ کہ مسٹر ٹرمپ خود بھی چین کے سخت نکتہ چیں رہے ہیں اور نیٹو کے رکن ممالک سے چین پر 100 فیصد درآمدی ٹیکس لگانے کی اپیل کر چکے ہیں۔ ایسے میں چین کے حوالے سے ان کے رویے میں یہ نرمی عالمی سفارت کاری کے لحاظ سے خاصی اہم سمجھی جا رہی ہے ۔
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ میں لکھا،”چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بہت کامیاب گفتگو ہوئی۔ ہم نے تجارت، فینٹانائل، روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو ختم کرنے اور ٹک ٹاک معاہدے سمیت کئی اہم مسائل پر پیش رفت حاصل کی۔”
انہوں نے کہا کہ بات چیت مثبت رہی اور ٹک ٹاک معاہدے کی منظوری کا خیر مقدم کیا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس معاہدے کے تحت ٹک ٹاک کا امریکی کاروبارمبینہ طور پر امریکی سرمایہ کاروں کے ایک گروپ کو فروخت کیا جائے گا۔
چینی کمپنی بائٹ ڈانس کے زیرِ انتظام چلنے والے ٹک ٹاک کو امریکی حکومت پہلے ہی بتا چکی تھی کہ اسے اپنا امریکی آپریشن بیچنا ہوگا، ورنہ کاروبار بند کرنا پڑے گا۔
گزشتہ سال صدارتی انتخابات کے دوران مسٹر ٹرمپ نے اپنی مہم کے لیے ٹک ٹاک کا خاصا استعمال کیا تھا اور صدر بننے کے بعد انہوں نے چار بار امریکہ میں اس پر پابندی کی ڈیڈ لائن آگے بڑھائی۔ فی الحال یہ مدت دسمبر تک بڑھا دی گئی ہے ۔
اپنے حالیہ برطانیہ کے دورے پر، برطانوی وزیرِ اعظم کئیر سٹارمر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران، ٹک ٹاک سے متعلق سوال کے جواب میں مسٹر ٹرمپ نے کہا تھا،”جو لوگ اس میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں، وہ دنیا کے بہترین سرمایہ کاروں میں سے ہیں۔”
بائٹ ڈانس کے ایک ترجمان نے جمعہ کے روز کہا،”بائٹ ڈانس موجودہ قوانین کے تحت یہ یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا کہ امریکی صارفین کے لیے ٹک ٹاک، ٹک ٹاک یو ایس کے ذریعے دستیاب رہے ۔”
انہوں نے دونوں صدور کا”امریکہ میں ٹک ٹاک کو بچانے کی کوششوں”پر شکریہ ادا کیا۔










