واشنگٹن، 18 ستمبر (یو این آئی) امریکی امیگریشن جج نے فلسطین کے حامی کارکن محمود خلیل کی ملک بدری کا حکم دے دیا ہے ، انہیں یا تو الجزائر یا شام بھیجا جا سکتا ہے ، یہ فیصلہ ان الزامات کے بعد آیا ہے کہ انہوں نے گرین کارڈ کی درخواست میں معلومات چھپائی تھیں۔
بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق لوزیانا میں تعینات جج جیمی کومانز نے کہا کہ محمود خلیل نے امیگریشن کے عمل کو بائی پاس کرنے کے مقصد سے جان بوجھ کر حقائق کو غلط طور پر پیش کیا۔
امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) کو جاری بیان میں محمود خلیل نے کہا کہ یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ میری آزادی اظہار کی وجہ سے مجھ سے انتقام جاری رکھے ہوئے ہے ۔
محمود خلیل فلسطینی نژاد ہیں اور امریکہ میں مستقل رہائش رکھتے ہیں، وہ 2024 کی غزہ جنگ کے دوران کولمبیا یونیورسٹی میں ہونے والے مظاہروں میں ایک نمایاں شخصیت تھے ، جہاں وہ زیرِ تعلیم بھی رہے تھے ۔
محمود خلیل کے وکلا نے کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے اور یہ بھی کہا کہ وفاقی عدالت کے الگ احکامات بدستور موجود ہیں، جو حکومت کو ان کی ملک بدری یا حراست سے روکتے ہیں۔
مارچ میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) حکام نے انہیں اس وقت حراست میں لیا جب ٹرمپ انتظامیہ نے ان یونیورسٹیوں پر کریک ڈاؤن شروع کیا، جن پر الزام ہے کہ وہ یہود دشمنی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہیں۔
شام میں پیدا ہونے والے اور الجزائر کی شہریت رکھنے والے محمود خلیل کو 3 ماہ تک لوزیانا کی امیگریشن سہولت میں رکھا گیا، اس سے پہلے کہ ایک وفاقی جج نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ وہ نہ تو فرار ہونے کے خطرے میں ہیں اور نہ ہی اپنی برادری کے لیے خطرہ ہیں۔






