سرینگر/۱۷ ستمبر
حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بٹ آج۹۰ برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ طویل عرصے سے علیل تھے اور اپنی رہائشگاہ سوپور، ضلع بارہمولہ میں ہی زیرِ علاج تھے۔
میرواعظ محمد عمر فاروق نے بٹ کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے کہا’’ابھی ان کے صاحبزادے کا فون آیا جس میں اس افسوسناک خبر کی اطلاع دی گئی‘‘۔
ان کے انتقال پر جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔
ایکس پر اپنے ایک تعزیتی بیان میں عمرعبداللہ نے کہا’’مجھے بزرگ کشمیری سیاسی رہنما اور ماہر تعلیم پروفیسر عبدالغنی بٹ صاحب کے انتقال کی خبر سن کر بے حد دکھ ہوا۔ ہماری سیاسی سوچ بالکل مختلف تھی لیکن میں ہمیشہ انہیں ایک شائستہ انسان کے طور پر یاد رکھوں گا۔ انہیں یہ ہمت تھی کہ انہوں نے اْس وقت بھی مذاکرات کی وکالت کی جب بہت سے لوگ سمجھتے تھے کہ تشدد ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ اسی سبب ان کی ملاقات اْس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی جی اور نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی جی سے ہوئی۔ اللہ پروفیسر بٹ صاحب کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ میری تعزیت ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کے ساتھ ہے۔‘‘
پروفیسر بٹ۱۹۳۵ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سری پرتاپ کالج سری نگر سے فارسی مضامین میں گریجویشن کیا اور بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارسی میں پوسٹ گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔
خاندانی ذرائع کے مطابق پروفیسر بٹ کی تدفین ان کے آبائی قبرستان سوپور میں کی جائے گی۔
علمی میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے بعد پروفیسر بٹ سیاست کی طرف متوجہ ہوئے ۔
مرحوم حریت کانفرنس کے بانی اراکین میں شامل رہے اور بعدازاں ایک دھڑے کے چیئرمین بھی بنے۔ اپنی نرم اور متوازن سیاسی سوچ کے باعث انہیں ہمیشہ ایک معتدل رہنما کے طور پر دیکھا گیا۔ پروفیسربٹ کئی بار متنازع بیانات کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہے، تاہم انہوں نے ہمیشہ کشمیر میں بات چیت اور پرامن حل پر زور دیا۔
پروفیسر بٹ کا شمار اْن رہنماؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے کشمیری عوام کے مسائل کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے ’’کشمیر کے مسئلے کا حل گولی سے نہیں، بلکہ سیاسی مذاکرات سے ممکن ہے‘‘۔
سیاست سے ہٹ کر، وہ علمی ذوق رکھنے والے شخص تھے اور فارسی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ ان کے شاگرد آج بھی ان کی تدریس اور فہم و فراست کو یاد کرتے ہیں۔










